تربیلا ڈیم کی مٹی میں ساڑھے چھ سو ارب ڈالرز کا سونا موجود؟

 

 

 

 

پاکستان کے حالات بدلنے کی ایک نئی اُمید جاگ اٹھی۔ توانائی اور ترقی کی علامت سمجھے جانے والا ملک کا سب سے بڑا تربیلا ڈیم اب صرف پانی اور بجلی کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی مٹی میں چھپے مبینہ خزانے کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر کی موجودگی کے دعوے نے پورے ملک میں تجسس، جوش اور امید کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔

 

یہ خبر اُس وقت سامنے آئی جب معروف بزنس مین اور پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حنیف گوہر نے انکشاف کیا کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں اتنی مقدار میں سونا موجود ہے جو پاکستان کی معاشی تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سونا نکال لیا جائے تو ملک نہ صرف اپنے تمام غیر ملکی قرضے ادا کر سکتا ہے بلکہ خود کفالت کی نئی منزل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان میں "سونے کے خزانے” کی بات سامنے آئی ہو۔ 2015 میں نواز شریف نے چنیوٹ میں سونا، تانبا اور لوہا دریافت ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح رواں برس پنجاب کے وزیر معدنیات نے اٹک میں 700 ارب روپے کے سونے کے ذخائر کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر ان میں سے کوئی بھی منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ تاہم اب ایک نئے دعوے کے بعد پاکستان کے حالات بدلنے کی امید ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہے۔

 

تربیلا ڈیم میں سونے کے ذخائر کی موجودگی بارے حنیف گوہر کا مزید کہنا ہے کہ ان کی کمپنی "ہمالین” گزشتہ کچھ برسوں سے دریائے سندھ میں “پلیسر گولڈ” کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے 2024 میں چار بلاکس کا آکشن کیا تھا، جن میں سے ایک بلاک "سی” جو 111 کلومیٹر طویل ہے ان کی کمپنی نے حاصل کیا۔ اسی دوران ان کی جیولوجیکل ٹیم نے تربیلا ڈیم کی مٹی میں سونے کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ حنیف گوہر کے مطابق جب انھوں نے تربیلا ڈیم کی مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کروایا تو معلوم ہوا کہ ہر ٹن مٹی میں تقریباً ڈیڑھ گرام سونا موجود ہے۔ حنیف گوہر کے اندازے کے مطابق گزشتہ ساٹھ سالوں میں ڈیم کے اندر تقریباً پندرہ لاکھ ٹن مٹی جمع ہو چکی ہے، اور اگر ان اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ٹربیلا ڈیم کی مٹی میں چھ سو چھتیس ارب ڈالر سے زائد مالیت کا سونا موجود ہو سکتا ہے۔

سابق نائب صدر پاکستان چیمبر حنیف گوہر کے بقول انہوں نےتربیلا ڈیم میں سونے کی موجودگی بارے ایک جامع رپورٹ آرمی چیف اور وزیر اعظم سمیت ملکی اعلیٰ سول و عسکری قیادت کو بھجوا دی ہے۔ ان کے مطابق چیئرمین واپڈا نے انہیں ایک کلومیٹر طویل پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا کہا ہے، مگر گوہر کے بقول اتنے بڑے منصوبے کو جزوی طور پر شروع کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے لیے بھاری مشینری، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سطح کی ماہر ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ حنیف گوہر کے بقول ان کی جانب سےسائنسی بنیادوں پر تمام کام مکمل ہے تاہم حکومت کی جانب سے انھیں اب تک کوئی باضابطہ حوصلہ افزاء جواب نہیں دیا گیا۔

 

دوسری جانب تربیلا ڈیم سے سونا ملنے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین اسے پاکستان کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کئی لوگوں نے اسے محض ایک دعویٰ کہہ کر مسترد کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے دعوے کیے گئے تھے مگر ان کے نتائج کبھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔ 2015 میں چنیوٹ میں لوہے، تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا، مگر وہ منصوبہ آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اسی طرح حال ہی میں پنجاب حکومت نے اٹک کے قریب 700 ارب روپے کے سونے کے ذخائر کا دعویٰ کیا، مگر اس کی بھی سائنسی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

 

تاہم ماہرین ارضیات کے مطابق پاکستان میں سونا زیادہ تر شمالی علاقوں، چترال، سوات، گلگت اور غذر کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔ دریاؤں میں پایا جانے والا سونا دراصل “پلیسر گولڈ” ہوتا ہے جو پہاڑوں سے بہہ کر آتا ہے۔ جب دریاؤں کا بہاؤ میدانی علاقوں میں سست ہوتا ہے تو یہ ذرات تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کے ذخائر صنعتی سطح پر استعمال کے لیے ناکافی ہوتے ہیں، مگر چھوٹے پیمانے پر سونا نکالنے کا عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان، گلگت بلتستان اور چاغی کے علاقوں میں تانبے کے ساتھ سونا بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس کی مقدار محدود ہے اور معاشی طور پر بڑی مائننگ ممکن نہیں۔

 

خیال رہے کہ پاکستان میں سونے کی کان کنی کے منصوبوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ملک کی اپنی معاشی جدوجہد کی۔ بلوچستان میں واقع سیندک منصوبہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا تھا جہاں تانبے کے ساتھ سونا اور چاندی بھی حاصل کی جاتی ہے۔ بعد ازاں ریکوڈک منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز بنا، جسے دنیا کی سب سے بڑی تانبے اور سونے کی کانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بیرک گولڈ کارپوریشن نے بلوچستان حکومت کے ساتھ معاہدہ کر کے ریکوڈک منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا ہے، جس سے 2028 تک پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان کے جیولوجیکل سروے کے مطابق ملک میں اندازاً 1.6 ارب ٹن سونے کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ فی الحال ملک میں ہر سال ڈیڑھ سے دو ٹن خام سونا نکالا جاتا ہے، مگر اگر ریکوڈک اور دیگر منصوبے مکمل ہو گئے تو یہ پیداوار آئندہ دس برسوں میں سالانہ آٹھ سے دس ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم تربیلا کے معاملے میں ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق یا سائنسی تحقیق منظرِ عام پر نہیں آئی۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ اگر تربیلا ڈیم کی مٹی میں واقعی اتنا سونا موجود ہے تو یہ دریافت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معدنی خزانے کی موجودگی سے زیادہ اہم بات اس کا نکالنا، صاف کرنا اور تجارتی طور پر استعمال ممکن بنانا ہے۔ فی الحال یہ دعویٰ امید اور حقیقت کے درمیان معلق ہے۔ مگر ایک بات طے ہے کہ چاہے تربیلا کی مٹی میں سونا ہو یا نہ ہو، پاکستان کی سرزمین اب بھی بے شمار پوشیدہ وسائل سے مالا مال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو معدنی وسائل کے حوالے سے صرف خواب دکھانے کے بجائے، ان کے مؤثر استعمال کے لیے عملی اقدامات کرے۔

 

Back to top button