کیا نواز شریف کی طرح عمران کو بھی ریلیف ملنے کا امکان ہے؟

 

 

 

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے اپنی ایک آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کے دعوے کے بعد اپوزیشن نے انہیں علاج کے لیے فوری ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کی نئی جیل مکمل ہوتے ہی عمران کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ لیکن اس دوران وفاقی دارالحکومت میں یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ نواز شریف کی طرح عمران کو بھی ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم حکومتی حلقے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر رہے ہیں۔

 

اس وقت اپوزیشن اتحاد عمران خان کی صحت کے معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمران خان کو اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کر کے ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج نہ کرایا گیا تو احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے حامی شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت پر غفلت کا الزام لگا رہے ہیں۔

 

دوسری جانب حکومتی موقف ہے کہ عدالت سے سزا یافتہ قیدی کو خصوصی ریلیف دینا ممکن نہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جیل میں موجود طبی سہولیات کے تحت عمران خان کا علاج جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری ہسپتال منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔عمران کی بیماری کے معاملے پر عوامی سطح پر دو آراء پائی جا رہی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کی بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عدالتی بنیاد پر کوئی ریلیف حاصل کیا جا سکے، جیسا کہ ماضی میں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملا تھا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اگر علاج میں تاخیر یا غفلت ہوئی تو اس کے سیاسی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں اور حکومت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر عمران کے علاج پر جاری ڈیڈ لاک کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش آ گیا تو اس کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم انکے مطابق عمران خان کوئی علاج کے لیے ہسپتال تو بھیجا جا سکتا ہے لیکن نواز شریف کی طرح ان کے مخالف حلقے انہیں باہر بھیجنے کا رسک نہیں لیں گے۔

 

ادھر قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی قیدی کو کسی عضو کے ضائع ہونے کا حقیقی خطرہ ہو تو یہ ضمانت یا ریلیف کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعوی عمران خان نے کیا ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ آئی اسپیشلسٹ کرے گا جس نے ابھی مکمل معائنہ کرنا ہے۔ ادھر عمران خان کے قریبی عزیز اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بانی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں پر عائد ہوگی۔ سابق جیل سپرنٹنڈنٹ بشیر خان کا کہنا ہے کہ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل جیسی جیلوں میں بنیادی میڈیکل سہولیات موجود ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں آئی جی جیل خانہ جات کی منظوری سے کسی بھی قیدی کو سرکاری ہسپتال منتقل کرنا بھی ممکن ہے۔

 

ادھر عدالت کی جانب سے عمران خان کو غیر معمولی طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ آیا پس پردہ کوئی مفاہمت یا ڈیل زیر غور ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں بیانات کی شدت میں کمی اور عدالتی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کو عمران خان تک مکمل رسائی حاصل نہیں، اس لیے صحت سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

فوج سے پنگا لیتے ہوئے عمران اپنی اوقات کیوں بھول گئے؟

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق بظاہر فیصلہ سازوں کی جانب سے عمران خان کے معاملے میں بظاہر کچھ نرمیاں ضرور دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں ۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور حکومتی مؤقف کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا کوئی امکان فوری طور پر نظر نہیں آتا کہ عمران خان کو نواز شریف کی طرز پر ریلیف ملنے جا رہا ہو یا ان کی رہائی کا کوئی واضح راستہ کھل رہا ہو۔ موجودہ صورتحال میں ان کی راولپنڈی سے اسلام اباد کی جیل منتقلی کا فیصلہ بھی انتظامی نوعیت کا ہے، نہ کہ کسی سیاسی ڈیل یا عدالتی ریلیف کا پیش خیمہ ہے۔

Back to top button