کوئی ہے جو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ کا حلف دلوا سکے

عمران خان کی زیر قیادت مسلسل غیر آئینی روش پر گامزن آئینی عہدوں پر فائز انکے ساتھی جمہوری طریقے سے شکست تسلیم کرنے کی بجائے مسلسل گند ڈالنے میں مصروف ہیں۔ پہلے عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خلاف دائر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رکوانے کے لئے ڈپٹی سپیکر سے آئین شکنی کروائی اور اب اسی راستے پر چلتے ہوئے
گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے نئے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کو حلف دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کا انتخاب متنازعہ ہو چکا ہے لہٰذا وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر پنجاب کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے، تاہم وہ اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ یہ فیصلہ صرف صدر پاکستان کر سکتا ہے، لہذا وزیر اعلی پنجاب منتخب ہونے کے باوجود اس وقت صوبہ وزیراعلی کے بغیر ہے اور پنجاب کا سیاسی بحران سنگین ہوگیا ہے۔
اس صورتحال میں ایک مرتبہ پھر لاہور ہائیکورٹ کی جانب دیکھا جارہا ہے اور اس تجویز پر غور ہو رہا ہے کہ حمزہ شہباز کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے حلف دلوا دیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ بھی موجودہ سیاسی بحران میں الجھنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے دو ہفتے پہلے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو برطرف کر کے ان کی جگہ قریبی ساتھی عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب نامزد کیا تھا جو اب قاسم سوری جیسا غیر آئینی کردار ادا کرتے ہوئے حمزہ شہباز شریف کو حلف دینے سے انکاری ہیں۔ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی سے 196 ووٹ لے کر وزیر اعلی منتخب ہوئے تھے جبکہ تحریک انصاف اور قاف لیگ نے ہنگامہ آرائی کرنے کے بعد الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔
لیکن گورنر پنجاب نے 17 اپریل کو ہونے والی حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری بھی منسوخ کر دی تھی۔ عمر چیمہ کا اصرار ہے کہ اگر وزیر اعظم نے انکی برطرفی کی ایڈوائس صدر علوی کو بھجوا بھی دی یے تو ایوان صدر نے اس پر 15 دن میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے لہٰذا وہ اگلے دو ہفتے بھی گورنر کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ تاہم وفاقی حکومت کا اصرار ہے کہ عمر چیمہ اب گورنر پنجاب نہیں رہے اور انہوں نے فوری طور پر گورنر ہاؤس خالی کر دینا چاہیے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک صدر گورنر پنجاب کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتے تب تک نئے گورنر کی تعیناتی ممکن نہیں لہذا ان حالات میں حمزہ شہباز کا حلف لٹکتے رہنے کا امکان ہے درپیش ہے۔
خیال رہے کہ آئینی طور پر کسی بھی صوبے کا گورنر نئے منتخب ہونے والے وزیر اعلی سے حلف لیتا ہے۔ لیکن گورنر پنجاب نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والے واقعات کی رپورٹ سیکرٹری اسمبلی نے ان کو بھیجی ہے جس کو دیکھنے کے بعد انہوں نے حلف کے عمل کو ’موخر‘ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے نئے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کی سمری گورنر ہاؤس کو بھیجی گئی جس کو گورنر کے عملے نے وصول کیا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اسی پریس کانفرنس کے دوران برطرف کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
آئینی طور پر اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو ان کی جگہ سپیکر اسمبلی حلف لے سکتے ہیں تاہم صورت حال یہ پیدا ہو گئی ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی خود پرویز الہی ہیں جو کہ حمزہ شہباز کے مقابلے میں وزارت اعلی کے امیدوار بھی تھے۔ انہوں نے پہلے ہی حمزہ شہباز کو سرے سے وزیر اعلی ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ سپیکر آفس کے مطابق پرویز الہی بھی حمزہ سے حلف نہیں لیں گے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے صدر مملکت عارف علوی نے بھی حلف نہیں لیا تھا۔ صدارتی آفس کے مطابق وہ اچانک بیمار ہو گئے تھے چنانچہ صدر علوی کی جگہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیر اعظم سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
لیکن پنجاب میں صورت حال اس سے بھی مختلف ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لے سکتے ہیں لہذا اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ابھی تک لاہور ہائی کورٹ آفس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ چیف جسٹس نو منتخب وزیراعلی سے حلف لیں گے یا نہیں۔
صدر کی گورنر پنجاب کو کام جاری رکھنے کی ہدایت
یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ وفاقی حکومت پنجاب میں نیا گورنر لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اگر عمرسرفراز چیمہ نے گورنر ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا تو صورت حال اور پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ پھر یہ بھی سوال کھڑا ہو گا کہ نئے گورنر سے حلف کون لے گا؟ گورنر سے حلف چونکہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس لیتا ہے اس لیے عدلیہ اس ساری سیاسی صورت حال کو کیسے دیکھ رہی ہے یہ بات بھی ابھی حل طلب ہے۔
Is there anyone who can get Hamza Shahbaz sworn in as CM? video
