کیا تحریک لبیک پھر سے حکومت کو آگے لگانے والی ہے؟

ایک ایسے وقت میں جب متحدہ اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریوں میں مصروف ہے، خفیہ ہاتھ کی پیداوار سمجھی جانے والی تحریک لبیک نے بھی مہنگائی کا ج قابو کرنے میں حکومتی ناکامی کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا ہے جسکے بعد کپتان حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جانے کا امکان ہے۔

اگرچہ کپتان اینڈ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے احتجاج کی کال سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جب ماضی قریب میں تحریک لبیک قاکے سڑکوں پر نکلے تھے تو حکومت کو اسکے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینا پڑ گیا تھا اور جماعت کے سربراہ حافظ حسین رضوی کو بھی رہا کردیا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ تحریک لبیک کی جانب سے مہنگائی کے خلاف احتجاج کے اعلان کی ٹائمنگ بڑی معنی خیز ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں عمران خان نے ایک فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان جلد فرانس میں اپنا سفیر مقرر کر دے گا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر تحریک لبیک حکومت سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور فرانس میں اپنا سفیر نہ لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنے دے چکی ہے اس لیے خدشہ ہے کہ مہنگائی کے خلاف مارچ کے دوران تحریک لبیک فرانس کے معاملے کو اچھال کر کپتان حکومت کے لئے نئی مصیبت کھڑی کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی شوریٰ نے 23 مارچ کو کراچی میں روڈ مارچ اور احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ نے پارٹی سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا۔ اسکے علاوہ تحریک لبیک نے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملے پر بھی سپیکر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کو لکھے گئے خطوط پر عمل درآمد کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحریک لبیک کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے متعلق احتجاج پر ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد اور بل پر قومی اسمبلی میں حسب وعدہ بحث کے بعد فیصلہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ تحریک لبیک کے نائب ناظم اعلیٰ پنجاب اختر بھٹی کے مطابق پہلے مرحلے میں مہنگائی کے خلاف کراچی میں روڈ مارچ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اھتجاج کی تاریخ 23 مارچ رکھی گئی ہے تاکہ حکومت کواحساس دلایا جائے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے شہریوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔

پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش واپس لینے کا امکان

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے 23 مارچ کے حکومت مخالف لانگ مارچ میں تحریک لبیک شریک نہیں ہو گی کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے سیاسی ایجنڈے پر گامزن ہیں، ان کا مقصد عوامی نہیں بلکہ ذاتی ہے۔ اختر بھٹی کے بقول مجلس شوریٰ نے ابھی صرف کراچی میں مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر آنے اور احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت پارٹی سربراہ سعد حسین رضوی کریں گے اور یہ ایک روزہ احتجاج ہوگا۔ احتجاج کا دائرہ دوسرے شہروں تک بڑھانے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم آئندہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ باقی اپوزیشن جماعتوں کی طرح تحریک لبیک بھی قانون کی خلاف ورزی کیے بغیر احتجاج کر سکتی ہے، اس سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی بیدخلی سے متعلق حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد میں مدد دینے کے لیے جماعت نے ملک کی سیاسی قیادت کو خطوط بھجوائے تھے.

لیکن ابھی تک سپیکر قومی اسمبلی یا کسی بھی اپوزیشن جماعت کے پارلیمانی لیڈر نے اس پر جواب نہیں دیا جس کے بعد تحریک لبیک نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ خط بھی منظر عام پر لایا جائے گا اور سپیکر اسد قیصر سے بھی رابطہ کیا جائے گا کہ ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا ؟ اعجاز چوہدری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بل پر پارلیمنٹ میں بحث میں تاخیر اپوزیشن کی جانب سے ہے اور یہ بات تحریک لبیک کی قیادت کے علم میں ہے۔ ان کا کہنا ہے پارلیمنٹ می بحث کے بعد فرانسیسی سفیر سے متعلق فیصلہ کیا جائے کیونکہ انہیں نکالنے کا مطالبہ علامہ خادم حسین رضوی کا تھا، موجودہ قیادت معاملہ آئین و قانون کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک نے اس سے پہلے جتنے بھی احتجاج، لانگ مارچ کیے یا دھرنے دیے ہیں وہ مذہبی مطالبات کی منظوری کے لیے تھے۔ سب سے پہلے توہین مذہب کے الزم میں گرفتار آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ سے بریت کے خلاف دھرنا دیا گیا اس کے بعد قومی اسمبلی میں اراکین کے حلف ناموں میں ردوبدل کے خلاف ملک گیر دھرنا دیا گیا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے فرانسیسی صدر کے بیان پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے اور پارٹی سربراہ سعد حسین رضوی سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف لانگ مارچ کیا گیا تھا جس میں کئی ٹی ایل پی کارکن اور پولیس اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔ اس لانگ مارچ کو ختم کرانے کے لیے حکومت نے ٹی ایل پی سے معاہدہ بھی کیا تھا جس میں سعد رضوی و دیگر قائدین اور کارکنوں کی رہائی اور ان کے خلاف مقدمات کا اخراج شامل تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تحریک لبیک نے بھی حکومت کو ایسے وقت میں ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تحریک لبیک کی جانب سے مہنگائی مارچ کے ساتھ ساتھ فرانس کے معاملے پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے اعلان سے حکومت کے خلاف ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔

Back to top button