عشق مرشد کی شبراکا ہوٹل سے چوری کرنے کا انکشاف

مقبول اداکارہ در فشاں سلیم نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایک بار ایک پرتعیش ہوٹل سے جائے نماز چوری کی تھی۔

در فشاں سلیم نے اپنے ایک انٹریو میں ایک اور سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ چونکہ وہ انتہائی مہنگے اور پرتعیش ہوٹلوں میں رہائش کے لیے ٹھہرے ہیں تو انہوں نے وہاں سے بوتلیں اور ٹاول تک چرائے۔ در فشاں سلیم نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دو سال قبل ایک اچھے اور پرتعیش ہوٹل سے جائے نماز چرائی تھی۔انہوں نے ہوٹل کا نام نہیں لیا، تاہم بتایا کہ انہیں جائے نماز پسند آگئی، کیوں کہ وہ بہت ہی نازک تھی اور پھر انہوں نے سوچا کہ انہیں چوری کی ہوئی جائے نماز پر نماز ہی پڑھنی ہے تو خدا ان سے اس چوری متعلق سوال نہیں کریں گے۔ اسی طرح انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ بچپن میں والدہ کے پیسے چرا کر کھانیں کی چیزیں منگوایا کرتی تھیں۔

اسی طرح پروگرام میں بات کرتے ہوئے در فشاں سلیم نے کہا کہ وہ ایسے شخص سے شادی کرنا چاہیں گی جو کھانے پینے کا شوقین ہے اور جو دوسروں کی شخصی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ در فشاں نے بتایا کہ والدین کی جانب سے ان پر فی الحال شادی کا کوئی دباؤ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان کھلی ذہنیت کا مالک ہے، ان کے والدین ان کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں اور شادی سے متعلق سوالات نہیں کرتے۔

توہین عدالت کیس: طلعت حسین، مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری

اداکارہ نے بتایا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی اداکاری کا شوق رکھتی تھیں مگر والدین انہیں سی ایس ایس افسر دیکھنا چاہتے تھے۔درفشاں نے بتایا کہ انہوں نے قانون کی تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی،درفشاں نے انکشاف کیا کہ جب وہ لندن میں زیر تعلیم تھیں تو انہیں ایک گورے کلاس فیلو نے شادی کی پیش کش کی تھی اور انھوں نے کچھ وقت کے لیے اس پیش کش کو سنجیدہ بھی لیا تھا۔تاہم بعد ازاں انہوں نے گورے کو اس لیے منع کردیا کہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کریں گی تو ان کی والدہ انہیں کیا کہیں گی؟

دوران پروگرام اداکارہ در فشاں سلیم نے شکوہ کیا کہ حال ہی میں اختتام کو پہنچنے والے ان کے مقبول ترین ڈرامے ’عشق مرشد‘ کے بعد لوگ انٹرنیٹ پر ان کی ہاٹ ویڈیوز اور تصاویر تلاش کرتے رہے۔درفشاں کے مطابق کچھ دن قبل بہت سارے لوگوں نے انہیں ایک ویڈیو بھیجی، جس کے بعد مجبور ہوکر انہوں نے مذکورہ ویڈیو دیکھی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ عشق مرشد کو تلاش کر رہے ہیں لیکن مذکورہ ڈرامے کو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک خاص چیز بھی تلاش کر رہے ہیں۔اداکارہ نے شکوہ کیا کہ ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں نے انٹرنیٹ پر عشق مرشد میں درفشاں سلیم ہاٹ کو سب سے زیادہ تلاش کیا۔اداکارہ کی جانب سے درفشاں سلیم ہاٹ کو تلاش کرنے کی بات کہنے پر پنڈال ہنس پڑا اور اداکارہ نے شکوہ کیا کہ پاکستانی معاشرے کے مرد اس طرح کے ٹرینڈز کو بڑھاتے ہیں۔در فشاں سلیم نے مذکورہ معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ پر زیادہ تر مرد ہی ہوتے ہیں اور وہ ہی در فشاں سلیم ہاٹ کو تلاش کرکے ایسے ٹرینڈز بناتے ہیں۔

Back to top button