ISIنے دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کو آگے کیسے لگایا؟

آج ہم آپ کو دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاورز سمیت پاکستانی حکمرانوں کو بھی آگے لگا لینے والی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے قیام اور عروج در عروج کی کہانی سنائیں گے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی کی بنیاد ایک آسٹریلوی باشندے رابرٹ کاتھوم نے ڈالی تھی۔ میجر جنرل رابرٹ آسٹریلوی نژاد برطانوی فوج کے جنرل آفیسر تھے اور بعد میں انہوں نے پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ وہ 1947 کے بعد نو تشکیل شدہ پاک فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بنے۔ انہوں نے میجر جنرل کے طور پر بھی فوج میں خدمات انجام دیں اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے بانی تھے۔ رابرٹ 1950 سے 1959 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔

ISI آئی ایس آئی کے قیام کا بنیادی مقصد ملکی مفادات کا تحفظ اور دشمن ایجنسیوں کی تخریبی کارروائیوں کا قبل از وقت پتا چلا کر انہیں کاونٹر کرنا تھا۔ اس سے پہلے انٹیلیجنس بیورو ‎(I.B)‎ اور ملٹری انٹیلیجنس ‎(M.I)‎ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن بعد میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ جیسے ہی پاکستان بھارت کے ساتھ 1948 کی جنگ سے باہر آیا، برطانوی فوج سے عارضی تبادلے پر آئے میجر جنرل رابرٹ نے محسوس کیا کہ نہ تجربہ کار پاکستانی فوج کو ایک تگڑے انٹیلیجنس ادارے کی ضرورت ہے۔ لیکن ابتداء کے دس سال آئی ایس آئی کے لیے کچھ اچھے نہیں رہے۔ 1965 کی جنگ میں آئی ایس آئی بری طرح ناکام رہی۔ پھر آئی ایس آئی 1971 میں مشرقی پاکستان میں جاری شورش کو پہچاننے میں بھی ناکام رہی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ آئی ایس آئی کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایجنسی فوجی قیادت کی کمانڈ میں کام کر رہی تھی اور یحیی خان کی حکومت نے مشرقی پاکستان سے اٹھنے والی آوازوں کو فوجی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے لیے حالات 1979 میں بدلے جب افغانستان میں سوویت ٹینکوں نے چڑھائی کر دی۔

ایک دہائی تک چلنے والی اس جنگ میں امریکہ نے نہ صرف آئی ایس آئی کو مالی مدد فراہم کی بلکہ امریکی سی آئی اے نے اس کے افسران کی ٹریننگ بھی کی، افغان اور عرب افغان جنگ میں لڑے لیکن اس جنگ کی بساط پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئی ایس آئی نے بچھا رکھی تھی اور یہیں سے اس ایجنسی کی قسمت بدل گئی۔ ایجنسی نے افعانستان کی سرحد پر خفیہ ٹریننگ کیمپ بنا رکھے تھے جس میں اسی ہزار سے زائد جنگجوؤں کو’جہاد‘ کی ٹریننگ دی گئی۔ آئی ایس آئی اسلحے کی پائپ لائن کو کنٹرول کرتی تھی جس کی مالی امداد امریکہ کی سی آئی اے اور سعودی انٹیلیجنس کر رہی تھی۔

اس پائپ لائن کے ذریعے کراچی سے خیبر پاس تک کلاشنکوف اور توپ شکن میزائل اسمگل کی جاتی تھیں۔اس طرح یہ ایجنسی طاقتور اور دولت مند ہوتی گئی۔

1989 میں افغانستان سے روسیوں کے انخلاء کے بعد سی آئی اے نے پاکستان کو تقریباً خیر باد کہہ دیا تھا لیکن آئی ایس آئی میں جہاد کا جذبہ باقی رہا۔

آئی ایس آئی کے پاکستانی افسران میں اس نظریے نے ایجنسی کی شکل ہی تبدیل کر دی اور آئی ایس آئی نے پورے ایشیا یعنی بنگلہ دیش، ازبکستان، برما اور بھارت میں اسلامی گروپوں کی حمایت شروع کر دی۔ چنانچہ 1993 میں امریکہ نے پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کردیا جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ ایجنسی کی اس بدلتی شکل کو درست کرنے کےلیے ایک سیکولر ذہن کے افسر جاوید اشرف قاضی کو 1993 میں ایجنسی کا سربراہ تعینات کیا گیا۔ معروف برطانوی صحافی ڈیکلین والش سے گارڈئین اخبار کے لیے ایک انٹرویو میں جاوید اشرف قاضی نے بتایا کہ جب انہوں نے آئی ایس آئی کا چارج لیا تو ایجنسی جہادیوں کا ایک ٹولہ بن چکی تھی اور اس کے کئی سابق افسران تبلیغی جماعت میں شامل ہو چکے تھے۔

قاضی کے بقول انہوں نے ایجنسی سے انتہا پسندوں کا صفایا شروع کیا لیکن پھر بھی آئی ایس آئی کا ’جہاد‘ جاری رہا۔

اس دوران قاضی فارغ ہو گئے اور آئی ایس آئی نے افغانستان میں طالبان تحریک کی حمایت شروع کر دی۔ طالبان رہنما ملا عمر کو مشورے دینے کے لیے کرنل امام کہلانے والے ایک آئی ایس آئی اہلکار کو افغانستان بھیجا گیا۔ یہی وہ کرنل امام تھے جنہوں نے اسّی کی دہائی میں آئی ایس آئی کی حمایت سےمجاہدین کیمپ میں ملا عمر کو ٹریننگ دی تھی۔ تاہم کرنل امام بود ازاں خود تحریک طالبان کے ایک سابق سربراہ ہاتھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ تاہم اب گزشتہ ایک دہائی میں آئی ایس آئی ’جہاد‘ ترک کرنے کا پروپیگنڈا کرتی نظر آتی ہے۔ 2001 میں جب امریکی اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پہنچے تو پرویز مشرف نے طالبان سے نظریں پھیر لیں اور اس کے بعد جنوری میں انہوں نے جہادی گروپوں کا خاتمہ کرنے کا عزم کیا۔ لیکن دیکھنے میں حالات کچھ اور تھے اور حقیقت میں کچھ اور۔ وکی لیکس کے مطابق آئی آیس آئی چوری چھپے افغان طالبان، لشکرِ طیبہ اور حقانی گروپ کی حمایت کر رہی تھی۔ لیکن پھر وہ ووت آیا جب آئی ایس آئی خود بھی جہادی تشدد کا نشانہ بننے لگی۔ پاکستانی طالبان کی سوچ ہے کہ آئی ایس آئی نے ان کو دھوکا دیا ہے لہٰذا وہ اب اس کے دشمن ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی طالبان افغان طالبان سے الگ ہیں، القاعدہ سے متاثر ہیں اور ان کا پاکستانی ریاست پر قبضہ کرنے کا عزم ہے۔ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستانی طالبان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور وہ بھی اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ آنے والے وقت میں وہ بھی اسلام آباد پر قابض ہو سکتے ہیں۔ لہذا اس وقت آئی ایس آئی کےلیے اہم ترین ٹاسک طالبان کی کمر توڑنا ہے۔

 

فوجی حکومت اور عمرانی عدلیہ کا دنگل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

Back to top button