ISI کی سیاسی مداخلت ، سپریم کورٹ میں ثبوت کون دے گا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے آئی ایس  آئی پر سیاسی مداخلت کے الزامات پر مبنی خط لکھنے کے بعد جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کے ازخودنوٹس کی سماعت جاری ہے وہیں دوسری طرف ججز کے خفیہ ایجنسی پر الزامات کے ثبوت کی فراہمی بارے قانونی حلقوں کی رائے منقسم ہے۔ بعض قانونی ماہرین کے مطابق آئی ایس آئی پر الزامات کے حوالے سے از خود نوٹس میں بار ثبوت ججز پر عائد ہو گا تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے ججز خطوط ازخود نوٹس کیس کے تحریری فیصلے میں اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’کٹہرے میں انتظامیہ ہے تو بارِ ثبوت بھی انتظامیہ پر ہے۔‘جسٹس اطہر من اللہ کی اس تحریر سے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ بار ثبوت الزام عائد کرنے والے پر ہو گا یا الزام کا سامنا کرنے والے پر؟

خیال رہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’خط لکھنے والے چھ ہائی کورٹ جج آواز اٹھانے والے جج ہیں، آواز اٹھانے والے ان ججز کو مسائل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، فل کورٹ کے سامنے اب انتظامیہ کو ثابت کرنا ہو گا کہ اس کی جانب سے مداخلت نہیں ہوتی، کٹہرے میں انتظامیہ ہے اس لیے بار ثبوت بھی انتظامیہ پر ہے۔‘

واضح رہے کہ بار ثبوت بنیادی طور پر وہ قانونی نکتہ ہے، جس میں دعویٰ کرنے والے فریق پر دعویٰ سچ ثابت کرنے کی غرض سے ثبوت دکھانا لازمی ہو جاتا ہے اور ثبوت ثابت کرے کہ کیا گیا دعویٰ درست ہے۔بار ثبوت کی تین اقسام ہیں، جن میں بغیر کسی شک کے استدلالی دلائل، دعوے کے ناقابل یقین ثبوت اور واضح اور قائل کرنے والے ثبوت شامل ہیں۔دستاویزی اور فرانزک ثبوتوں کے علاوہ ویڈیو کو بھی بطور ثبوت استعمال کیا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے تاکہ ملزم کو سزا دینے کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہوں۔ اسی طرح سول کیسز میں بھی شکایت کنندہ پر بار ثبوت ہوتا ہے کہ جس پارٹی نے درخواست کنندہ کو نقصان پہنچایا ہے اس کا ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ پانامہ کیسز میں نام آنے اور الزامات کے بعد سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے لگنے والے الزامات کے ثبوت عدالت میں پیش کیے تھے، جس کے دفاع میں متاثرہ فریقین نے دلائل و دستاویزی ثبوت دیے تھے۔

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس میں دلچسب صورتحال یوں ہے کہ ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے خط لکھا لیکن وہ درخواست گزار نہیں ہیں۔ لیکن چھ ججوں نے چیف جسٹس سے شکایت ضرور کی ہے۔ اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے معاملے پر ازخود نوٹس لیا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے اس صورت میں بار ثبوت کس پر ہو گا؟

سابق جج ہائی کورٹ شاہ خاور کے مطابق ’عمومی طور پر بار ثبوت الزام علیہ یعنی جس پر الزام لگے اس پر شفٹ نہیں ہوتا بلکہ شکایت کنندہ یعنی شکایت کرنے والے پر ہی رہتا ہے۔ لیکن مخصوص صورت حال میں جس پر الزام لگتا ہے اگر وہ کہتا ہے میں وقوعہ کے روز فلاں ٹائم پہ وہاں نہیں تھا تو اس صورت میں الزام علیہ کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کہاں تھا؟ اس صورت میں بار ثبوت شکایت کنندہ سے الزام علیہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسا بالکل مخصوص صورت حال میں ہی ہو سکتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک بات ہے کہ ازخود نوٹس میں بار ثبوت کس پر ہو گا تو اس صورت میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ ازخود نوٹس کس کی شکایت پر لیا گیا ہے؟ اگر ججز درخواست گزار نہیں بھی ہیں تو بھی خط لکھنے کی صورت میں شکایت کنندہ تو وہی ہوں گے۔ اب جسٹس اطہر من اللہ کے کہنے سے تو بار ثبوت منتقل نہیں ہو گا۔ بار ثبوت تو قانون کے مطابق ہی رہے گا۔‘ شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ’اگر ججوں کو ہراساں کیا گیا تھا۔ کیمرے نصب کر کے نگرانی کی گئی تو اس کی کوئی ایف آئی آر کیوں نہیں کرائی گئی تاکہ اس مجرمانہ عمل پر قانونی کارروائی شروع کی جاتی؟ اگر جج پر کسی کیس میں دباؤ ہے تو کیا وہ سپریم جوڈیشل کونسل سے پوچھے گا کہ میں کیا کروں؟ جج خود پر دباؤ ڈالنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے۔‘

دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ’جسٹس اطہر من اللہ کا بار ثبوت انتطامیہ پر منتقل کرنے کا اختلافی نوٹ غلط ہے کیونکہ بار ثبوت انتظامیہ پر نہیں ہو سکتا بلکہ شکایت کنندہ پر ہی رہے گا۔‘ان کے خیال میں: ’عدالت کے سامنے بار ثبوت کا معاملہ اس وقت آئے گا جب عدالت معاملے کی انکوائری کرے گی تو الزام لگانے والوں سے پوچھا جائے گا کہ ان پر کیا دباؤ آیا تھا؟ لیکن اگر صرف معاملے کو حل کرنے کے لیے دیکھنا ہے تو پھر بار ثبوت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اگر جج خود بیٹھ کر طے کر لیں کہ جج انتظامیہ میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ انتظامیہ ان کے کام میں مداخلت نہ کرے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پانامہ کیس میں بھی کمیشن نہیں بنا سکے تھے بلکہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنا دی تھی، جس نے دستاویزات مہیا کیں تھیں جن کی بنیاد پر کیس چلایا گیا تھا۔‘

Back to top button