نجم سیٹھی کی ڈی جی ISI اور ڈی جی سی کو ہٹانے کی پیش گوئی

سابق وزیراعلی پنجاب اور چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفتینینٹ جنرل ندیم انجم اور ڈی جی کاونٹر انٹیلی جینس میجر جنرل فیصل نصیر کو آئی ایس آئی سے ہٹا کر دوسری جگہوں پہ تعینات کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق دونوں میں سے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کور کمانڈر بنیں گے.
سماء ٹی وی کے پروگرام ‘سیٹھی سے سوال’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ بظاہر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا عام انتخابات 2024 سے متعلق دھاندلی کا پلان کوئی خاص کامیاب نہیں ہوا۔ اس منصوبے کی ناکامی کے بعد فوج میں اہم ترین پوزیشنز پر تبدیلیاں لانے کے بارے میں سوچا جا رہا تھا مگر ایسا فوری طور پر اس لیے نہیں ہو سکا کیونکہ فوجی قیادت تھوڑا وقت گزارنا چاہ رہی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آنے والے دنوں میں پاک فوج میں تین اہم پوزیشنز پر تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں اور ان کے لیے تیاریاں بھی ہو چکی ہیں۔ ایک اہم کور کمانڈر تبدیل ہوں گے اور ان کی جگہ لینے کے لیے آئی ایس آئی سے ایک اعلیٰ افسر کو وہاں بھجوایا جائے گا۔ ان کے علاوہ آئی ایس آئی کے ایک اور طاقتور افسر کو بھی نئی جگہ تعینات کیا جائے گا کیونکہ الیکشن 2024 کے نتائج فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق نہیں آئے تو اس تناظر میں آئی ایس آئی کے دونوں بڑے افسران کو ان عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔
ہر لاپتہ فرد اپنی فیملی کے پاس ضرور پہنچے گا: اسلام آباد ہائی کورٹ
سازشی نظریات کا پرچار کرنے والے نجم سیٹھی نے کہا کہ پاک فوج میں تین بڑے عہدوں پر تقرریاں ہونے کے بعد سیاسی منظرنامے میں بھی تبدیلی رونما ہو گی کیونکہ نئے افسران آ کر نیا پلان بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے لوگوں کے بنائے ہوئے پلان یا تو فیل ہوتے ہیں یا پھر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اگر تو یہ پلان کامیاب ہو جائیں تو پھر ان لوگوں کو انہی عہدوں پر برقرار رکھا جاتا ہے لیکن اگر یہ پلان ناکام ہو جائیں تو ذمہ دار افسران کو ادھر ادھر کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے ممکنہ تبدیلیاں بھی اسی جانب اشارہ ہوں گی کہ پرانا پلان کامیاب نہیں ہوا۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی میں اہم عہدے پر جو نئے افسر آئیں گے ظاہر ہے وہ ٹیم بھی اپنی مرضی کی بنائیں گے۔ اس لیے کچھ اور لوگ بھی آئی ایس آئی سے ادھر ادھر جائیں گے۔ اہم پوزیشنز پر جب نئے لوگ تعینات ہوتے ہیں تو پھر پلان بھی نیا بنتا ہے۔ نئے لوگ آ ہی اس لیے رہے ہیں کیونکہ فوج کا پرانا پلان بظاہر فیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نیا پلان کس طرح کا بنے گا۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے سے زیادہ سختی نظر آئے۔ تاہم اس بارے میں وثوق سے تب ہی تبصرہ کیا جا سکے گا جب نئے افسران نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ فی الحال یہ طے ہو چکا ہے کہ تین اہم پوزیشنز پر نئے لوگ تعینات کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ اور ڈی جی سی میں بعض معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اپنے مذکورہ کالم میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم کو بارہ سنگھا جبکہ ڈی جی سی جنرل فیصل نصیر کو لومڑ لکھا تھا۔ یہ کالم چھپنے کے بعد جنگ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ نجم سیٹھی سے جب اس کالم کے تناظر میں بارہ سنگھے اور لومڑ میں جاری اختلافات سے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ان دونوں میں سے ایک کو تبدیل کر کے آرمی چیف کی قریبی پوزیشن سے اور بھی قریبی جگہ پر کور کمانڈر لگا دیا جائے گا اور ادارے کے اندر بیلنس رکھنے کے لیے دوسرے افسر کو بھی ان کی پوزیشن پر نہیں رہنے دیا جائے گا۔ نجم سیٹھی نے اگرچہ دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے نام نہیں لیے تاہم سہیل وڑائچ کے دیے ہوئے ناموں کو استعمال کرتے ہوئے جیسے انہوں نے بات کی تو اس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی سی جنرل فیصل نصیر دونوں کو آئی ایس آئی سے ہٹا کر دوسری جگہوں پہ تعینات کر دیا جائے گا۔
