اسلام آباد خودکش حملہ افغانستان کی جوابی کارروائی قرار

باخبر سیکیورٹی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اسلام آباد کچہری کے مین گیٹ پر خودکش حملہ اسی طرز کا تھا جیسا کہ وانا کیڈٹ کالج کے مین گیٹ پر کیا گیا اور ان دونوں حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ چند ہفتے قبل افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو واضح طور پر دھمکی دی تھی کہ افغان سرزمین پر پاکستانی فضائی حملوں کا جواب اسلام آباد میں حملوں سے دیا جائے گا۔ لہذا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ طالبان کی جانب سے اپنی دھمکی پر عمل درآمد کے مترادف ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دھمکی تب دی گئی تھی جب پاکستان نے افغان سرحدی علاقوں میں موجود پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ پاکستانی حکومت کے مطابق یہ حملے دہشت گردوں کے خلاف دفاعی نوعیت کے تھے، مگر کابل حکومت نے انہیں “افغان خودمختاری کی خلاف ورزی” قرار دیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا تھس کہ اگر پاکستان نے ایسے حملے جاری رکھے تو افغانستان “اسلام آباد میں بھی جوابی ردعمل” دے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان حکومت نہ صرف تحریک طالبان پاکستان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ ان کی کارروائیوں میں سہولت کاری بھی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان حکومت نے ماضی کی طرح ایک بار پھر دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک طرف افغانستان کے حکمران طالبان مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے زیر انتظام علاقوں میں TTP کے کیمپ اور تربیتی مراکز ابھی تک سرگرم ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے افغان سرزمین پر موجود ان ٹھکانوں کے واضح شواہد کابل حکومت کے سامنے رکھے، مگر ان کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔

دوحہ اور استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کا مقصد یہی تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کی جائے اور دہشت گردی کے واقعات کا سدباب ہو۔ ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کریں، مگر افغان وفد کی جانب سے محض زبانی یقین دہانیاں کروائی گئیں۔ استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے اختتام پر پاکستانی وفد نے اعلان کیا کہ افغان فریق کی طرف سے کوئی قابلِ عمل ضمانت نہیں ملی، اس لیے مذاکرات ناکام قرار دیے گئے۔

پاکستانی وزارتِ دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے مذاکرات کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کو نہ صرف نکیل ڈالنے سے گریز کیا بلکہ انہیں مکمل آزادی دے دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کریں۔ وانا کیڈٹ کالج کے مین گیٹ پر ہونے والا حملہ اور اسلام آباد میں خودکش دھماکہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان کو ایک ہتھیار کے طور پر اسلام آباد کے خلاف استعمال کر رہے ہیں تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حالیہ خودکش حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان حکومت امن نہیں چاہتی بلکہ دہشت گرد گروپوں کو پاکستان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان نے اپنی عسکری اور سفارتی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدیداروں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو پاکستان اس کا “خوفناک جواب” دینے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان میں خودکش حملوں کے بعد پاک افغان مذاکرات کا مستقبل نہایت غیر یقینی ہو گیا ہے اور دوحہ اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔

اسلام آباد خودکش حملہ پوری قوم کے لیے ویک اپ کال ہے: وزیرِ دفاع

افغان طالبان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی کھلی حمایت اور ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دی جانے والی دھمکی اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل حکومت پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کو ایک “سیاسی دباؤ” کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب حکومتِ پاکستان کے لیے واحد راستہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنا ہے، کیونکہ مذاکرات اور یقین دہانیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے حملے اس بات کا عندیہ ہیں کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے اور پاک افغان مزاکرات کے باوجود افغان طالبان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات واضح ہیں، اور اگر افغان طالبان نے اپنی پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

Back to top button