اسلامی نظریاتی کونسل: VPN کو غیر اسلامی کہنے کی بونگی کیوں ماری؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار روؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے وی پی این کا استعمال غیر اسلامی قرار دینے سے پاکستان اچانک 800 برس پیچھے جاتا نظر آتا ہے جب ہلاکو خان بغداد کی تباہی کا پلان لیے قلعے کو گھیر چکا تھا اور اندر خلیفہ علمائے سے یہ فیصلہ کروانے میں مصروف تھا کہ کوا حرام ہوتا ہے یا مکروہ ہوتا ہے۔ بغداد کی فتح کے بعد تاتاریوں نے آخری عباسی خلیفہ کو ایک بوری میں بند کر کے ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ آج لگتا یے کہ پچھلے 800 برسں میں کچھ بھی نہیں بدلا، نہ خلیفہ کی سوچ بدلی‘ نہ علما بدلے اور نہ ہی حلال حرام کے فتوے ختم ہو پائے۔
اپنی تازہ تحریر میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ تیرہویں صدی میں اگر مسلمانوں کے لیے اہم ترین مسئلہ کوے کا حرام یا مکروہ ہونا تھا تو آج آٹھ سو سال بعد بات وی پی پر آن پہنچی یے جسے کوے کی طرح حرام ہونے کا اعزاز ملا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ہم ہر دور میں ٹیکنالوجی کے دشمن رہے ہیں؟ جو بھی نئی ایجاد سامنے آتی ہے ہم مسلمان عملا اس کے خلاف فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔ فتوی ہر حکمران کا ایسا ہتھیار بن چکا ہے کہ اب کوئی بھی اسے ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ بھٹو جیسا سیکولر آدمی کو بھی اپنے مذہبی مخالفین کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مذہب کارڈ استعمال کرنا پڑ گیا تھا۔ بھٹو نے اپنے آخری دنوں میں جو اقدامات کیے ان کا مقصد مذہبی طبقے کو راضی کرنا تھا تا کہ ان کے خلاف پی این اے کی احتجاجی تحریک ختم ہو جائے گی۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے انہوں نے مذہبی طبقے کو مزید مضبوط کر دیا۔
لیکن مذہبی ٹچ دیتے ہوئے بھٹو یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ خود کو کمزور کر رہے ہیں اور اپنا اقتدار نہیں بچا پائیں گے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک بڑھا اور اپنی پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک کم کر رہے تھے۔ دراصل بھٹو کو اقتدار مذہبی قوتوں کی وجہ سے نہیں ملا تھا بلکہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے پر ملا تھا۔ ان کا ووٹر کسان‘ مزدور اور غریب آدمی تھا۔ بالاخر ہوا یہ کہ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو شہید کا جوڈیشل مرڈر کروا دیا۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ بھٹو کی طرح عمران خان نے بھی وزیر اعظم بن کر مذہبی بیانیہ خوب بیچا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ عوام کو اپنی کارکردگی سے نہیں‘ بلکہ مذہبی ٹچ سے متاثر کریں گے اور ان کا یہ ٹچ خاصا کامیاب بھی رہا۔ لیکن آج کل وہ بھی بھٹو کی طرح اڈیالہ جیل میں بند اپنی سزاؤں کا انتظار کر رہے ہیں۔ آج بھی علمائے کرام روزانہ نت نئے فتوے دے کر پاکستانیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انکا ایمان خطرے میں ہے‘ لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ انکا ایمان کس سے خطرے میں ہے۔ غور کیا جائے تو ہمیں بیرونی سے زیادہ اندرونی طور پر ایک دوسرے سے خطرہ رہا ہے کیونکہ ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف فتوے دیتے آئے ہیں۔
یہود وہنود سے زیادہ سازشیں ہم نے خود ایک دوسرے خلاف کی ہیں۔ ہاں یہود و ہنود کا اس میں اتنا حصہ ضرور تھا کہ انہوں نے ہمارے ہاتھوں میں نئی ٹیکنالوجی تھما دی کہ اس کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلائیں۔ ہمیں بجلی‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ‘ یوٹیوب‘ فیس بک‘ ٹویٹر دے دیا یا سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز کو کھل کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔ وہ لوگ جو کبھی ان سائنسی ایجادات کو شیطان کہتے تھے‘ اب ان کے استعمال سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ٹیکنالوجی کو ہمارے ہاں نفرت کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلائی گئی۔
فیک نیوز پھیلانے والوں کو روکنے کے لیے سخت سزائیں لازمی کیوں ہیں؟
سوال یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو وی پی این تو غیر شرعی لگتا ہے لیکن بہت سے دیگر ایشوز غیرشرعی کیوں نہیں لگتے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ وی پی این سے آن لائن چوری کی جاتی ہے۔ افسوس کہ انہیں آن لائن چوری کی فکر ہے‘ لیکن جو سیاسی ایلیٹ‘ سول ملٹری حکمران‘ بیورو کریسی اور دیگر طاقت ور طبقات کھلے عام چوری کرتے ہیں اور پیسہ بیرونِ ملک ٹرانسفر کرتے ہیں اس کی فکر نہیں ہے۔ اس وقت ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں حالانکہ اسلام واحد مذہب ہے جس نے چودہ سو برس پہلے عورت اور مرد دونوں پر تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا تھا۔ پاکستان میں حاکموں کے کرتوتوں سے کسی کو مسئلہ نہیں۔ وہ منی لانڈرنگ کریں‘ لندن میں جائیدادیں خرید لیں‘ دبئی میں گھڑیاں بیچیں‘ پاکستان سے ڈالرز لیجا کر باہر کے بینک بھر دیں‘ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہر حکمران کو ہر دور میں ایسے بھاڑے کے علما مل جاتے ہیں جو ان کے اقتدار کو مذہبی ٹچ دینے کے لیے ان کی مرضی کے فتوے جاری کر دیتے ہیں۔ میرا اعتراض ایک ہی ہے کہ اگر آپ کو لگتا کہ سوشل میڈیا یا نئی ٹیکنالوجی ملک کی دشمن ہے تو سیدھا سادہ فیصلہ کریں اور سب کچھ بند کر دیں۔ آپ ایک انتظامی فیصلہ لیں، بجائے کہ اسلام کی آڑ لیتے ہوئے وی پی این کو اسلامی نظریاتی کونسل سے غیر اسلامی قرار دلوا دیں۔
