مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پاکستان کیسے بھگتے گا؟

اسرائیل اور حماس کے مابین ایک ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف اسرائیل نے غزہ پر میزائل حملے نہ روکنے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری طرف حماس کے بعد حزب اللہ نے سیز فائر نہ ہونے کی صورت میں باقاعدہ جنگ میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ’امریکہ اسرائیل کی مالی اور عسکری مدد کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کا اس ساری صورت حال میں کردار ایک تماشائی سے زیادہ دکھائی نہیں دے رہا۔’اس صورت حال نے ایک طرف دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے تو دوسری طرف عالمی معاشی عدم استحکام میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترقی یافتہ ممالک شاید اس بحران سے نمٹ لیں لیکن ترقی پذیر ممالک شاید اس مالی عدم استحکام کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے۔‘اگر پاکستان کی بات کی جائے تو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑ سکتا ہے، جس سے ہزاروں فیکٹریوں متاثر ہو سکتی ہیں۔‘

مبصرین کے مطابق عالمی سطح پر مہنگائی اور پاکستان میں بڑھتا ہوا ڈالر پہلے ہی کاروبار کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو رہے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پھیلنے کی صورت میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو نے کا خطرہ ہے، بجلی مہنگی ہو گی اور تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا جبکہ دوسری طرف قوت خرید کم ہونے سے صارفین مطلوبہ قیمت ادا نہیں کر سکیں گے، ایسے حالات میں کاروباری حضرات کیلئے بزنس جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

سیالکوٹ چمبر آف کامرس کے سابق صدر میاں نعیم جاویدکے مطابق پاکستان کی برآمدات امریکہ اور یورپ سے جڑی ہیں، یورپ میں توانائی کا بحران پہلے ہی بڑھ چکا ہے اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو آرڈرز نہیں مل رہے۔

’رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں آٹھ فی صد کمی دیکھی گئی ہے جبکہ جولائی اور اگست میں پاکستان صرف ساڑھے چار ارب ڈالرز کی برآمدات کر پایا جو گذشتہ سال کے انہی دو ماہ کے دوران پانچ ارب ڈالر تھی۔‘انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی تو یورپ میں حالات مزید خراب ہوں گے اور پاکستان کی برآمدات مزید کم ہو سکتی ہیں۔’موجودہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر چار ارب 10 کروڑ ڈالرز رہیں جو 21 فیصد کم ہیں۔‘انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی جاری رہتی ہے تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی حالات خراب ہوں گے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں مزید کمی آ سکتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور زمینی سرحد سے تجارت کا بڑا ذریعہ بھی، اگر ایران لڑائی میں براہ راست شامل ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

’ان حالات میں پاکستان کیا پوزیشن لے گا یہ اہم ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان میں امن کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ تجارتی نقصان بھی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔‘

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستانی معیشت تیل کی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے، پاکستان کا سب سے بڑا امپورٹ بل ہی پیٹرولیم مصنوعات کا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی کا دائرہ وسیع ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمت 55 فیصد سے 70 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے جو تقریباً 130 سے لے کر 150 ڈالر فی بیرل ہو سکتی ہیں۔’اس حساب سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تقریباً 550 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہیں، تجارتی خسارہ بڑھ سکتا ہے، شرح نمو میں مزید کمی ہو سکتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

حفیظ پاشا کے بقول خلیجی ممالک کی پاکستان میں سرمایہ کاری اس کشیدگی سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن دیگر کئی عوامل ہیں جن سے خلیجی ممالک کی پاکستان میں سرمایہ کاری مشکل ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں ماحول سازگار ہونا ضروری ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کو حماس اسرائیل کشیدگی سے جوڑنا مناسب نہیں۔

دوسری جانب کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ ابھی تک حماس اسرائیل کیشدگی محدود ہے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اس سے اثر انداز نہیں ہو رہے۔’پاکستان میں ڈالر کی قیمت پہلے ہی زیادہ ہے، بلوم برگ کے مطابق یہ 250 کے قریب ہونی چاہیے۔ اگر مستقبل میں تیل کی مد میں زیادہ ڈالرز کی ادائیگی کرنا پڑ بھی جائے ( جس کے امکانات کم ہیں) تو سٹیٹ بینک اسے مینج کر سکتا ہے۔’ماضی میں سٹیٹ بینک نے ڈالرز کی ادائیگی کے حوالے سے ایک حد طے کر دی تھی جس کا فائدہ ہوا۔ اصل مسئلہ افواہوں کا ہے۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر بینکس یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ڈالر مزید مہنگا ہوگا، جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈالر ریٹ اوپر جا رہا ہے۔’امپورٹر کو کہا جا رہا ہے کہ ڈالرز خریدیں جبکہ ایکسپورٹرز کو کہا جا رہا ہے کہ ابھی ڈالرز روک لیں اس معاملے پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔‘

Back to top button