غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری،10دن میں 322فلسطینی بچے شہید

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملے میں گزشتہ 10 روز کے دوران کم از کم 322 بچے شہید اور 609 زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اعداد و شمار میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو 23 مارچ کو جنوبی غزہ میں الناصر اسپتال کے سرجیکل ڈپارٹمنٹ پر حملے میں شہید یا زخمی ہوئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر بچے بے گھر ہوئے ہیں اور عارضی خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی نے غزہ کے بچوں کے لیے ایک لائف لائن فراہم کی ہے لیکن بچوں کو ایک بار پھر مہلک تشدد اور محرومی کے چکر میں دھکیل دیا گیا ہے۔تمام فریقین کو بچوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا‘۔
حماس کے ایک سینئر عہدیدار سمیع ابوزہری نے دنیا بھر میں اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں اور غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کے خلاف لڑیں۔قتل عام اور بھوک کا سبب بننے والے اس مذموم منصوبے کے سامنے جو بھی دنیا میں کہیں بھی ہتھیار اٹھا سکتا ہے ۔
