اسلام آباد مذاکرات میں رخنہ ڈالنے کی اسرائیلی سازشیں

 

 

 

 

تحریر : نصرت جاوید

بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت

 

یہ لکھتے ہوئے خود کو عقل کل ثابت کرنا مقصود نہیں کہ اسرائیل نے اس کالم میں بیان کردہ خدشات کے عین مطابق بدھ کا دن لبنان پر قیامت ڈھانے پر مرکوز رکھا۔ جنوبی لبنان کے شہر طائر کو بالخصوص مسلسل بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک یہ افواہ تھی جس نے لبنان ہی نہیں دنیا کے بے تحاشہ ممالک میں یہ ’’خبر‘‘ پھیلائی کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے لبنان کے مختلف شہروں میں زیر زمین ہوئے حزب اللہ کے 100کے قریب سرکردہ رہ نمائوں کو انٹرنیٹ کے زوم (Zoom)پلیٹ فارم پر مشاورت کو راغب کیا۔ مبینہ مشاورت شروع ہونے کے دس منٹ بعد مذکورہ اجلاس کے تمام شرکاء کی لوکیشن جان کر ان سب کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنادیا گیا۔ حزب اللہ کے سو کے قریب سرکردہ رہ نمائوں کا انٹرنیٹ کے ذریعے کھوج لگانے کے بعد ہلاکت بھی اسرائیل کو لیکن مطمئن نہیں کر پائی۔ شہری آبادیوں پر فضائی حملے جاری رہے۔
جنگ بندی کا فیصلہ ہوجانے کے دوسرے دن اسرائیل کی لبنان میں ایران کے زیر اثر علاقوں پر ہوئے حملوں کا واحد مقصد ایران کو اشتعال دلانا تھا۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ صفوی دورِ حکومت کا آغاز ہوتے ہی ایران میں شیعہ مسلک کی ترویج کے لئے جنوبی لبنان کے انتہائی غریب علاقوں سے فقہی امور کے علماء کو ایران بلایا گیا تھا۔ جنوبی لبنان سے ایران کے رشتے لہٰذا 600سال پرانے ہیں۔ حقائق کے برعکس اگرچہ یہ باور کیا جاتا ہے کہ ایران میں امام خمینی کے لائے انقلاب کے بعد ایران نے جنوبی لبنان میں صدیوں سے قیام پذیر اپنے ہم مسلکوں سے روابط استوار کئے اور انہیں اسرائیل کی سرحد کے نہایت قریب ہونے کی وجہ سے صیہونی ریاست کے خلاف ایک ملیشیا کی صورت منظم کرنا شروع کردیا۔
ایران کو حزب اللہ کا سرپرست ٹھہراتے ہوئے یہ حقیقت بھی فراموش کردی جاتی ہے کہ جنوبی لبنان نہایت پسماندہ علاقہ رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ علاقے پہاڑی ہیں۔ زراعت کی وہاں گنجائش نہیں۔ وسیع پیمانے پر غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے یہاں کے باسی لبنان کے گھروں میں خانساموں یا ڈرائیوروں والے کام کرتے تھے۔ زیادہ تر دیہاڑی داروں کا تعلق بھی ان ہی علاقوں سے رہا ہے۔ لبنان کے غریب ترین مگر آبادی کے اعتبار سے بتدریج اکثریت میں بدلتے جنوبی لبنان میں آباد لوگوں کو امام موسیٰ صدر جیسے رہ نمائوں نے ایران میں اسلامی انقلاب سے کئی برس قبل سیاسی اعتبار سے منظم کرنا شروع کردیا تھا۔ اسلام کی جو تشریع امام موسیٰ صدر نے کی وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کو اْکساتی اور معاشی مساوات کا درس دیتی۔ امام موسیٰ صدر لیبیا کے کرنل قدافی کی دعوت پر 1978ء میں موصوف سے ملنے گئے۔ لیبیا پہنچتے ہی مگر پراسرار انداز میں ’’گم‘‘ ہوگئے۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لیبیا اترنے کے بعد وہ کہاں اور کیسے غائب ہوگئے۔ امام موسیٰ صدر کی منظم کردہ تحریک البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سید حسن نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ کی صورت نمودار ہوئی۔ یہ انتہائی منظم تحریک ہے جو مسلح جدوجہد اور مستقل مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔
اسرائیل نے اسے تباہ کرنے کو لبنان کے جنوبی علاقوں پر 2006ء میں بھرپور جنگ مسلط کی تھی۔ اس جنگ کے دوران میں چھ ہفتے بیروت میں رہا۔ جس ہوٹل میں قیام پذیر تھا وہاں سے جنوبی بیروت کے حزب اللہ کے زیر اثر علاقے 20منٹ کی مسافت پر تھے۔ میں پیدل وہاں پہنچ جاتا۔ وہاں کے تمام محلوں اور سڑکوں پر مگر ہْوکا عالم تھا۔ لوگ گھر اور دوکانیں بند کرکے نہ جانے کہاں چلے گئے تھے۔ جنوبی لبنان کے تمام شہر اور قصبے بھی آبادی سے کاملاََ خالی نظر آتے۔ ہمیں بتایا گیا کہ جنوبی علاقوں کے عام شہری نہایت منظم انداز میں لبنان کے دیگرشہروں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ وہاں کے اکثر سکول اور کارخانے ان کی رہائش کے لئے خالی کردئے گئے تھے۔ حزب اللہ ان کے کھانے پینے کا راشن فراہم کرتی۔ سورج ڈھلتے ہی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے افراد کی کافی تعداد سمندر کے کنارے قائم فٹ پاتھوں پر جمع ہوجاتی۔ میں وہاں جاکر لوگوں سے گفتگو کرنے کی کوشش کرتا تو دس سے پندرہ لوگوں کی ٹولی مجھے گھیرے میں لے کر تفتیشی سوالات پوچھنا شروع کردیتی۔ ان کا رویہ واضح کرتا کہ وہ ہر اجنبی شخص کو اسرائیل کا جاسوس سمجھتے اور ان سے گفتگو سے پرہیز کرتے۔
2006ء کی جنگ سے تھک جانے کے بعد اسرائیل نے فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کیا تو جنوبی لبنان کے شہر اور قصبوں سے نقل مکان ہوئے لوگ ایک ہی دن میں طویل قافلوں کی صورت اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے۔ جنوبی بیروت کی گلیوں میں دیوہیکل مشینوں نے نمودار ہوکر تباہ ہوئے مکانوں کی مرمت شروع کردی۔ لبنان میں یہ بات مشہور تھی کہ ایران نے حزب اللہ کے توسط سے اسرائیل کی جارحیت کی زد میں آئے ہر کنبے کو ڈالروں میں خاطرخواہ رقوم فراہم کی ہیں تا کہ وہ معمول کی زندگی سرعت سے بحال کرسکیں۔
حالیہ جنگ میں جنوبی لبنان سے بے گھر ہوئے افراد کا مگر کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دس لاکھ کے قریب افراد گھر بار چھوڑ کر بیروت آگئے ہیں۔ وہاں سمندر کے کنارے پلاسٹک کے خیموں میں بے آسرا ہوئے بھکاریوں کی طرح خیراتی اداروں سے امداد کے طالب ہیں۔ اسرائیل اس حال میں بھی انہیں معاف کرنے کو آمادہ نہیں ہورہا۔
بدھ کے روز لبنان میں برتی وحشت کا حتمی مقصد ایران کو اشتعال دلانا تھا۔ تباہ شدہ گھروں سے نکل کر سمندر کے کنارے ریت پر لگائے خیموں میں پناہ گزین لاکھوں لبنانی یہ محسوس کررہے ہیں کہ ایران نے انہیں بھلادیا ہے۔ ایران اپنے بارے میں یہ تاثر قبول نہیں کرسکتا۔ اسی باعث ایرانی قیادت پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی۔ انہیں احساس دلاتی رہی کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے۔ امریکی صدر مگر اپنی پسند کے صحافیوں کو یہ بتاتا رہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ فقط ایران اور امریکہ کے مابین ہوا ہے۔ لبنان اس میں شامل نہیں۔ صدر ٹرمپ کے پیغامات نے چند ایرانی رہ نمائوں کو یہ دھمکی دینے کو مجبور کردیا کہ اگر امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے میں ناکام رہا تو شاید اس کا وفد جمعہ کے دن اسلام آباد میں امن کے لئے ہوئے مذاکرات میں شریک ہونے کو آمادہ نہیں ہوگا۔
ایران اور امریکہ کے مابین پائیدار امن کی خاطر ہفتے کے دن سے شروع ہونے والے مذاکرات روکنے کے لئے ایران کو لبنان پر وحشیانہ حملوں سے مسلسل اشتعال دلایا جارہا ہے۔ امریکی صدر کو مگر اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ان مذاکرات کا انعقاد ہر صورت یقینی بنانا پڑے گا۔ یہ کالم چھپنے سے کئی گھنٹے قبل ہی اسرائیل پر امریکی دبائو بڑھنے کی امید ہے۔ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوجانے کے باوجود اسرائیل انہیں ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن حربہ اختیار کرتا رہے گا۔ اسرائیل کے علاوہ بھارت کوبھی پاکستان کا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مؤثر کردار ہضم نہیں ہورہا۔ اس کا وزیر خارجہ بھارت سے چند ممالک کا دورہ کرنے نکل پڑا ہے۔ جو ملک اس نے دورے کے لئے چنے ہیں وہ بھی ایران،امریکہ مذاکرات سے خوش نہیں۔ انہیں بھڑکانا مقصود ہے۔ تفصیلات میں جانے سے مگر گریز بہتر ہے۔ ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضہ ہے کہ ہم نہایت خلوص سے فی الوقت ان جزئیات کو نظرانداز کریں جو امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کے دارلحکومت میں ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات میں رخنہ ڈال سکتی ہیں۔

 

Back to top button