اسرائیلی وزیر اعظم منظر عام پر آ گئے، لائیو پریس کانفرنس میں بڑا دعویٰ

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن تیتن یاہو منظر عام آگئے اور ایران جنگ میں برتری کا دعویٰ بھی کر دیا۔
عالمی میڈیا رہورٹس کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن تیتن یاہو منظر عام آگئے ہیں، اور ایک لائیو پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے بریفنگ کے آغاز میں کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیل اور امریکا مشترکہ طور پر نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 20 روزہ لڑائی کے بعد اسرائیل کو برتری حاصل ہو رہی ہے اور ایران کو نمایاں نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تہران کی عسکری صلاحیت، خصوصاً جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو شدید دھچکا لگا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس عمل کو مکمل طور پر ختم ہونے تک جاری رکھا جائے گا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔
ایران کے اندر ممکنہ عوامی ردعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل کو بہت مہنگا پڑے گا، پاسداران انقلاب
انہوں نے عندیہ دیا کہ زمینی کارروائی کے مختلف امکانات موجود ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بیانات خطے میں کسی بڑی حکمت عملی یا آئندہ ممکنہ اقدامات کی جانب اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔
