سی آئی اے کی خفیہ اطلاع کے بعد اسرائیلی حملہ، ایرانی قیادت کے اجلاس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) نے ایرانی قیادت کے ایک اہم اجتماع کا سراغ لگایا، جس کے بعد اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹایمز کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی منصوبہ رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا، تاہم تہران میں ایک سرکاری کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد حملے کا وقت تبدیل کر کے ہفتے کی صبح کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی شرکت متوقع تھی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے سے کچھ دیر قبل سی آئی اے نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موجودگی کی درست نشاندہی کر لی تھی۔ آپریشن سے واقف ذرائع کے مطابق امریکی ایجنسی کئی ماہ سے خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں کی نگرانی کر رہی تھی اور وقت کے ساتھ اس کی معلومات زیادہ مستند ہوتی گئیں۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈرخامنہ ای جاں بحق، ایران نے تصدیق کر دی
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی خفیہ اطلاع ملنے کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مجوزہ حملے کے وقت میں ردوبدل کیا تاکہ مبینہ طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کیخلاف پاکستان سمیت مختلف ممالک میں مظاہرے
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی قیادت ممکنہ کشیدگی کے واضح اشاروں کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔
