بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو 9 سال مکمل

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل ہوگئے، کلبھوشن یادیو ’حسین مبارک پٹیل‘ کے نام سے پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کمانڈر کلبھوشن کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے مقامی مددگاروں کے ساتھ ایک خفیہ دورے پر تھا۔ کلبھوشن یادیو نے گرفتاری کے بعد پاکستان کو بتایا کہ وہ بھارتی نیوی کا افسر تھا جو انٹیلیجنس کا کام سرانجام دیتا تھا۔
اس غرض سے کلبھوشن نے ایران کے علاقے چاہ بہار میں حسین مبارک پٹیل کےنام سے ایک بزنس بھی شروع کیاتھا ت اکہ وہ اپنا کام جاری رکھے۔
اپریل 2017 میں کلبھوشن کو ایک فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی جس کےخلاف بھارت نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔تاہم بعد میں پاکستان نے کلبھوشن کی ملاقات اس کی والدہ سے بھی کرائی۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے سال2021 میں کلبھوشن کو قونصلر رسائی کےحوالے سے پارلیمنٹ سے ایک قانون بھی منظور کرایا تاہم وہ بدستور پاکستان کی حراست میں ہے۔
کلبھوشن کی گرفتاری نے پاکستان اور بھارت کےپہلے سے خراب تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جب کہ یہ گرفتاری پاکستان کی انٹیلیجنس برتری کا بھی واضح ثبوت ہے۔
لیگی رہنما اختیار ولی کا پرویز خٹک کی وفاقی کابینہ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار
ستمبر 2016 میں پاکستان نے کلبھوشن یادیو اور ”را“ کی پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں پر بنی ڈوزیئر بھی اقوام متحدہ کےحوالے کیا تھا جب کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کو بھارتی شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
