اتفاق رائے ہونے تک آئینی ترمیم لانا مشکل ہے،بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکاکہنا ہے کہ جب تک کوئی اتفاق نہیں ہوتا اس طر ح کی ترامیم لانا مشکل ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھاکہ اگر کوئی اس طرح کی ترامیم کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو وہ ذوالفقارعلی بھٹو نے اسلامی جمہوری آئین دلوایاتھا۔پاکستان کا کوئی شہری اس بات سے انکار نہیں سکتا کوئی ادرہ اپنا کام نہیں کر رہا جو اس کو کرنا چاہتے۔سب کو نظر آرہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کی تیسری نسل کو انصاف کیلئے انتظار کرنا پڑا۔عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا۔
بلاول بھٹوکاکہنا تھا کہ آزاد اور منصفانہ صحافت ضروری ہے۔کوئی اٹھ کر میڈیا کی خواتین کو گالیاں نکالے گا تو وہ سنتے رہیں گے۔میڈیا میں جتنا غلط خبر کو وقت ملا وہی جب اس چیز کی صفائی دی جائے تب بھی ملنا چاہیے۔نیشنل سکیورٹی ایشو کو خطرہ ہے یہ پہلی بار ہے اس پر بھی سیاست کھیلی جا رہی ہے۔ہر سیا سی جماعت پارلیمنٹ میں موجود ہے اور ان سب کی نمائندگی اس کمیٹی میں ہے۔زور زبردستی اس میں کچھ نہیں کرنا ہے۔چاٹر آف ڈیموکریسی پر آج بھی عمل شروع کر دیں۔پاکستان پیپلز پارٹی نے 90فیصد اس پرکام کیا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں جتنے حادثے ہوا ہیں جن آمرانہ دور سے ہم گزرے ہیں کوئی بھی نیشنل ایشو ہو دہشتگردی کا انصاف کیلئے ایسے ادارے قائم کرنا ضروری ہیں۔نیب ریفارمز بہت ضروری ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل تھا۔مسلم لیگ ن کے منشور میں اجکل پی ٹی آئی کا بھی یہی منشور ہے۔جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں نیب کیلئے کوئی اور منشور ہوتا ہے حکومت میں ہوتے ہیں کوئی اور مواقف ہوتا ہے۔اگر ہم واقعی کرپشن کا مقابلہ کرنا ہے سیاسی انتقام نہیں کرنا تو نیب ریفارمز ضروری ہیں ۔
منکی پاکس سے بچاؤ کی تمام تر احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں،وزیرِ اعظم
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا مقصد ہم اپنی عدالت کو اتنا طاقتور بنا دئیں۔تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف دیا جا سکے۔مہنگائی ہر انسان کا مسلئہ ہے۔جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا۔ تنقید ہوتی ہے جب کمی آتی ہے تب بھی یہ ہونا چاہیے۔
