برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ کا حصول ممکن ہوگیا

 

 

 

وزارت داخلہ نے عوام کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ کا حصول ممکن بنا دیا۔ نادرا نے ملکی تاریخ میں پہلی بار شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لیے برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔جس سے قانونی شناخت سے محروم ہزاروں شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ نادرا کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ نادرا کے اس فیصلے سے قبل کسی بھی شخص کیلئے شناختی کارڈ کے حصول کیلئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی موجودگی ضروری تھی تاہم پیدائش کا یونین کانسلز میں اندراج نہ کروانے والے شہریوں کو برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے وہ قومی شناختی دستاویزات سے محروم رہ جاتے تھے تاہم اب حکومت نے عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب وہ افراد بھی قومی شناختی کارڈ حاصل کر سکیں گے جو پیدائش کے اندراج یا برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث برسوں سے اس بنیادی دستاویز سے محروم تھے۔

نادرا حکام کے مطابق یہ سہولت پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے والوں کے لیے 31 دسمبر 2026 تک دستیاب رہے گی۔ تاہم یہ سہولت مشروط ہوگی اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے شہریوں کو متبادل طریقوں سے اپنی شناخت ثابت کرنا ہوگی۔ نادرا کے مطابق اس نئے طریقہ کار میں درخواست گزاروں کی شناخت متبادل ذرائع اور بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے کی جائے گی۔ اس حوالے سے مختلف عمر اور خاندانی حیثیت رکھنے والے افراد کے لیے الگ الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کسی قسم کی غلط اندراج سے بچا جا سکے۔

نادرا حکام کے مطابق اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کے لیے نکاح نامہ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ان کے والد یا والدہ اور شوہر کا قومی شناختی کارڈ بنا ہونا ضروری ہوگا، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق بھی لازمی شرط ہوگی۔ تاہم غیر شادی شدہ خواتین پر شوہر سے متعلق شرائط لاگو نہیں ہوں گی، البتہ انہیں دیگر مطلوبہ تصدیقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

 

چوبیس سال یا اس سے زائد عمر کے مردوں کے لیے ان کے والد یا والدہ اور کم از کم ایک بہن یا بھائی کے شناختی کارڈ کی موجودگی ضروری ہو گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ والدین میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی تاکہ خاندانی ربط کے ذریعے شناخت کی تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔ نادرا نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر والدین یا شوہر دونوں فوت ہو چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو بائیومیٹرک تصدیق کی شرط میں نرمی برتی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے جو خاندانی سرپرستی سے محروم ہیں مگر ان کا ریکارڈ سرکاری ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔

پاکستان کو بنگلہ دیش کی ترقی سے کیا کیا سبق سیکھنا ہوں گے

نادرا حکام نے عوام کو مزید خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پہلی بار نان اسمارٹ شناختی کارڈ کے اجرا پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی، تاکہ معاشی طور پر کمزور طبقات بھی بلا رکاوٹ رجسٹریشن کرا کر قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ تاہم شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت درست اور مکمل معلومات فراہم کریں، کیونکہ بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کے بنائے گئے شناختی کارڈ میں ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش میں بعد ازاں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

 

Back to top button