وزیر آئی ٹی کا ملک میں انٹرنیٹ کی مطلوبہ رفتار دستیاب نہ ہونے کا اعترف

وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزہ فاطمہ خواجہ نے اعتراف کیا ہےکہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی ویسی رفتار دستیاب نہیں،جس طرح ہونی چاہیے،انٹرنیٹ آج ایک اہم ترین ضرورت بن چکاہے۔

وزیر مملکت شزہ فاطمہ نے نیشنل براڈ بینڈ نیٹ ورک فورم کی تقریب سےخطاب کرتےہوئے کہاکہ فائبرائزیشن پالیسی اور فائیو جی سے انٹرنیٹ کی صورت حال میں بہتری آئے گی،وزیر اعظم نے اپنی سربراہی میں نیشنل ڈیجیٹل کمیشن بنایاہے۔

شزہ فاطمہ نےبتایا کہ ڈیجیٹل پاکستان کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،بل جلد منظور ہونےکی امید ہے،بل کی منظوری کےبعد نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا قیام عمل میں لائے جائےگا، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہوں گے،امید ہے اپوزیشن ڈیجیٹل پاکستان بل پرساتھ دے گی۔

انہوں نےکہا کہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اہم صوبائی وزرا بھی شامل ہوں گے،یہ کمیشن آئندہ 5 سال کا لائحہ عمل ترتیب دےگا۔

شزہ فاطمہ کہاکہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کےماتحت ڈیجیٹل اتھارٹی بنائی جائےگی، آنےوالے برسوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہوگی،آنے والے سالوں میں ٹیکنالوجی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری آئےگی۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل فائبرآئزیشن پالیسی پر تیزی سے کام جاری ہے،فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی اپریل میں ہوگی،فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی اور فور جی کو بہتر کیا جائےگا۔

ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ، ایک پولیس اہلکار شہید، دوسرا زخمی

وزیر مملکت نےکہاکہ پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے چیلنجز درپیش ہیں،روزانہ کی بنیاد پر سائبر سکیورٹی کے حملے ہوتےہیں، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کی ذمےداری بھی ہماری ہے اس پر بھرپور توجہ دےرہے ہیں۔

Back to top button