فیض حمید کی مرضی سے فیصلے دینے والے ججوں کی باری آ گئی

 

 

 

فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا کے بعد اسلام آباد میں یہ افواہیں زور پکڑتی جا رہی ہیں کہ ان کے خلاف مزید نئے کیسز تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دھمکانے، انہیں اپنے ساتھ ملانے اور ان سے مرضی کے فیصلے لینے کے سنگین الزامات بھی شامل ہیں۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ سابقہ ججز کے خلاف تو فیض حمید خود گواہی دینے کو تیار ہیں۔

 

باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 2017 میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے والے سپریم کورٹ بینچ کے تمام 5 اراکین نے فیض حمید کے ایما پر انہیں نااہل قرار دے دیا تھا تاکہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

 

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی نااہلی کو یقینی بنانے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس نے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور قانون کے مطابق کیس نچلی عدالت میں لگانے کی بجائے سیدھا سپریم کورٹ میں لگا دیا گیا تھا، نئی تاریخ لکھتے ہوئے اس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں ملک کی تمام بڑی خفیہ ایجنسیوں کے افسران شامل کیے گے اور انہیں نواز شریف کے خلاف شواہد اکٹھے کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کے پیچھے مرکزی کردار جنرل فیض حمید کا تھا، جو تب ڈی جی سی کے عہدے پر فائز تھے۔

 

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کروائے جانے کے فورا بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ماضی میں فیض حمید کے ساتھ مل کر کام کرنے والے ایسے تمام ججوں کے خلاف مواد اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ان میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے لے کر جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس عمر عطا بندیال اور دیگر جج صاحبان شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ججوں کا بھی احتساب ہوگا جن پر الزام ہے کہ وہ فیض حمید کے ساتھ مل کر سیاست میں مداخلت کرتے رہے اور عمران خان کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے من پسند فیصلے دیتے رہے۔

 

ذرائع کے مطابق بعض جج صاحبان تو عدالتوں میں باقاعدہ سیاسی رہنماؤں کے انداز میں کیسز کی سماعت کے دوران سیاسی تقاریر کرنے لگے تھے۔ اسی رجحان کو ختم کرنے کے لیے عدالتی ترامیم ناگزیر ہو چکی تھیں تاکہ عدلیہ کو دوبارہ اس کے آئینی دائرے میں لایا جا سکے۔ یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور بعد ازاں نااہلی کی مدت کے تعین پر فیصلہ سنایا۔ اس بینچ میں اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔ ان جج صاحبان نے فیصلہ دیا کہ عوامی نمائندے کی نااہلی تاحیات ہوگی، جس کے نتیجے میں نواز شریف ہمیشہ کے لیے نااہل قرار پائے۔

 

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ جب نواز شریف نااہلی کے باوجود اپنی جماعت کے فیصلوں میں شریک رہے اور پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے اختیارات استعمال کیے تو ایک اور بینچ تشکیل دیا گیا، جس کی سربراہی ایک بار پھر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی۔ اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے۔ اس بینچ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کو بطور پارٹی قائد تمام اختیارات سے بھی محروم کر دیا گیا۔

 

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ عمران خان نے بنی گالا جائیداد کے حوالے سے مس ڈیکلریشن کی ہے۔ اس کیس کی سماعت بھی چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہونے والے بینچ نے کی، جس میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے۔ فیصلے میں عمران خان کو صادق اور امین قرار دے دیا گیا اور یہ الفاظ عدالتی فیصلے کا حصہ بن گئے، جس کے بعد عدلیہ کے سیاسی کردار پر بحث نے شدت اختیار کر لی۔

 

اسی طرح جب آئین کے آرٹیکل 63-اے کی تشریح کا معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے ایک ایسا فیصلہ دیا جسے دیگر دو جج صاحبان نے آئین کو “ری رائٹ” کرنے کے مترادف قرار دیا۔ بعد ازاں جسٹس منصور علی شاہ پر بھی یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے تحریک انصاف کے حق میں ایسے فیصلے دیے جو قانونی ماہرین کے مطابق ناقابلِ فہم تھے۔ ذرائع کے مطابق فیض حمید کے جن عدالتی ہمنواؤں کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار المعروف “میاں رحمتے” کا نام سرِفہرست ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیض حمید اور ثاقب نثار کے درمیان گٹھ جوڑ تھا، جس کے نتیجے میں ملک کو شدید سیاسی اور آئینی نقصان پہنچا۔

 فیض حمید کورٹ مارشل ہونے والے چکوال کے تیسرے فوجی افسر

سابق چیف جسٹس کے فیملی ذرائع کے مطابق ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد سے اپنے چیمبر میں بیٹھتے ہیں اور معمول کے مطابق وہاں آتے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ میاں ثاقب نثار نے 31 دسمبر 2016 سے 17 جنوری 2019 تک پاکستان کے 25ویں چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں، اور اپنے دور میں متعدد عدالتی اور عوامی نوعیت کی مہمات بھی شروع کیں۔ لہذا آنے والے دنوں میں اگر سابقہ ججز کے فیض حمید سے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں دیے جانے والے عدالتی فیصلوں کے حوالے سے کوئی احتسابی کارروائی ہوتی ہے تو یہ پیش رفت ملکی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button