جہانگیر ترین کو جگر اور معدے کی تکلیف کا سامنا

وزیراعظم عمران خان کے سابق دست راست تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کے لندن پہنچنے کے بعد فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو جگر اور معدے کی تکلیف لاحق ہے اور ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ انکے جسم میں سوڈیم کی شدید کمی ہو چکی ہے جس وجہ سے وہ بار بار غنودگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں سوال کھڑے ہو رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کو اتنی کیا ایمرجنسی تھی کہ انہیں اچانک ائیر ایمبولینس سے لندن جانا پڑا؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی بیمار ہیں تو انہیں ایسا کیا مرض لاحق ہے کہ اسکا علاج لندن میں کروانا ضروری تھا خصوصا جب پاکستانی اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ان پر تکیہ کیے ہوئے تھیں؟ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں جہانگیر ترین بیماری کا بہانہ بنا کر سیاسی منظر نامہ سے غائب تو نہیں ہوئے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا وہ لندن میں کوئی اہم ملاقاتیں کرنے کے لیے بیماری کا بہانہ بنا کر تو نہیں نکلے ہیں۔

عامر لیاقت کی تیسری بیوی دوسری اہلیہ کو واپس بلانے پر تیار

ان تمام سوالوں سے قطع نظر جہانگیر ترین کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ ترین کو پیٹ اور جگر کی تکلیف لاحق ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے ٹیسٹ بھی کروائے، جن میں سے بعض ٹیسٹ لاہور کے شوکت خانم ہسپتال سے کروائے گئے۔ تاہم اب پتہ چلا ہے کہ انہیں جسم میں سوڈیم کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ جب لاہور میں ہونے والے ٹیسٹوں کی رپورٹس بارے انہوں نے لندن میں اپنے ڈاکٹر کو آگاہ کیا تو اس نے انہیں فورا برطانیہ آ جانے کا مشورہ دیا تاکہ انکے مزید ٹیسٹ بھی کروائے جا سکیں۔ چنانچہ جہانگیر ترین اپنی فیملی کے ساتھ لندن روانہ ہو گئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین ایک ہفتہ لندن میں قیام کریں گے۔

دریں اثناء سیاسی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین پر گذشتہ کچھ دنوں سے ان کے پرانے اور عمران خان کے مشترکہ دوستوں کی جانب سے شدید دباو تھا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف چلنے سے باز رہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے لندن میں قیام میں توسیع بھی خارج ازامکان نہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے بعد ہی وطن واپس آئیں۔

Back to top button