جہانگیر ترین کی اچانک لندن روانگی کی وجہ سیاسی ہے یا طبی؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کی امیدوں کا مرکز بننے والے جہانگیر خان ترین اچانک علاج کی خاطر لندن روانہ ہو گئے ہیں جس کے بعد یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ یا تو وہ کسی سیاسی مشن پر ملک سے باہر نکلے ہیں یا وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے اب بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈے پر کام کریں گے۔
تاہم جہانگیر ترین کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض کا شکار ہیں اور چند روز پہلے اچانک بے ہوش ہوگئے تھے۔ انہیں فوری طور پر شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ گھنٹے کے لئے کوما میں چلے گئے تھے جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں لندن سے اپنا علاج کرانے کا مشورہ دیا چنانچہ 26 فروری کی صبح وہ ایئرایمبولینس سے برطانیہ روانہ ہو گئے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے بیرون ملک جانے کی وجہ کوئی بھی ہو لیکن اس سے اپوزیشن جماعتوں کی وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بنتے ہوئے ٹیمپو کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پچھلے برس شوگر سکینڈل میں جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کو کاروائی حکم کے بعد دونوں پرانے دوستوں کے تعلق میں دراڑ آ گئی تھی جو مستقل دوریوں کا باعث بن گئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایف آئی اے کی جانب سے ترین کی گرفتاری کا خدشہ پیدا ہو گیا جس کے بعد انہوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کا ایک دھڑا تشکیل دیا اور اس کے اجلاس شروع کر دیے۔
جب وزیراعظم عمران خان کو ترین کی جانب سے باقاعدہ طور پر اپنا علیحدہ دھڑا بنانے کے خدشات لاحق ہوئے تو ان کے خلاف ایف آئی ایک کی کارروائی روک دی گئی اور تحقیقات سرد خانے کی نذر کر دی گئیں تاکہ حکومت بچائی جا سکے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد جہانگیر خان ترین ایک مرتبہ پھر متحرک ہوچکے تھے اور ایسی اطلاعات تھیں کہ ان کے ممبران قومی اور پنجاب اسمبلی پر مبنی دھڑا بہت جلد حکومتی جماعت سے علیحدہ ہو کر فارورڈ بلاک بنانے کا اعلان کر دے گا۔ لیکن اب ان کے اچانک بیرون ملک چلے جانے سے اپوزیشن جماعتوں کی عمران مخالف تحریک کا ٹیمپو متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
جہاں ایک جانب سیاسی حلقے یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ شاید جہانگیرترین لندن میں موجود نواز شریف کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیں، وہیں ان کے خاندانی ذرائع کا اصرار ہے کہ وہ شدید علیل ہیں اور ان کے بیرون ملک جانے کی کوئی سیاسی نہیں بلکہ صرف طبی وجوہات ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ ترین کے بیرون ملک جانے کا فیصلہ مشکلات میں گھرے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے لیے ایک ریلیف ثابت ہو گا۔
شمالی وزیرستان میں فورسزکا آپریشن،1 دہشتگرد ہلاک
یاد یہ ہے کہ جہانگیر ترین کو ایک زمانے میں عمران خان کی قربت کے ساتھ تحریک انصاف میں کنگ میکر کا درجہ بھی حاصل تھا۔ تب عمران اور ترین یک جان دو قالب سمجھے جاتے تھے۔ زمینی سفر ہو یا ان کے ذاتی جہاز کا فضائی سفر، جہانگیر ترین اپنے دوست خان صاحب کے سنگ سنگ ہوتے تھے۔سیاسی جلسے کا اسٹیج ہو یا نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنے کا کنٹینر، دونوں ایک سیاسی ہمسفر کی زندگی گزا ر رہے تھے۔ چنانچہ انکی جدائی کا سفر ایک ناقابل یقین کہانی کا سفر ہے۔
ایک طرف عمران خان کی شخصیت کا دبدبہ، چاہنے والوں کے لیے سحر انگیز شخصیت، ماضی کے حکمرانوں، شریف خاندان اور زرداری کے خلاف دھواں دار تقاریر، نوجوانوں کے ذہنوں کے گرد انقلابی خوابوں کا حصار کھینچنے والے خان صاحب اور دوسر ی طرف سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر، جیبوں میں اربوں کا سرمایہ، رحیم یار خان کے مخدوموں، ملتان کے گیلانیوں اور سندھ کے پیر پگارا سے رشتہ داریوں کی دامن سے گراہیں باندھے ترین۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو جہانگیرترین کا ساتھ نہ ملتا تو شاید وہ 2018 کے الیکشن کے بعد حکومت بھی تشکیل نہ دے پاتے۔ یہ جہانگیرترین ہی تھے جن کی کوششوں سے الیکشن کے بعد سیاسی پرندوں کے جھنڈ اڑتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف آنے لگے۔ خود پر خان صاحب کے بھرپور اظہار اعتماد سے انہیں بے پناہ طاقت حاصل ہو گئی۔ وہ خان صاحب اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کر رہے تھے۔
اس دوران جہاں انہوں نے ایک سرمایہ دار سے طاقتور سیاسی شخصیت کا روپ دھارا، وہاں پارٹی میں جلن، حسد اور دشمنیاں بھی مول لیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد، جہانگیر ترین نااہل ہونے کے باوجود ہر اہم حکومتی میٹنگ میں پالیسی ساز کی طرح موجود ہوتے۔ پارٹی میں ان کے ناقدین کا الزام کہ وفاق میں انہوں نے ڈپٹی پرائم منسٹر اور پنجاب میں چیف منسٹر کی طرح رویہ اپنایا ہوا تھا۔ان کی نااہلیت اور اس کے بعد سیاسی جانشین علی ترین کی لودھراں کے ضمنی الیکشن میں شکست تو پارٹی میں موجود مخالفین کو ان کے خلاف ایک اور محاذ مل گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد دونوں کے تعلقات میں بدلاؤ ایک قدرتی عمل تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ترین کا پہلا ٹکراؤ عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے ہوا، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ برس جب چینی کی قیمتیں آسمان سے پہنچیں تو شوگر کمیشن کی تفتیشی رپورٹ جاری کی گئی۔ ذمہ داروں کی فہرست تو طویل تھی لیکن ترین کے نام کو خوب اچھالا گیا۔ وہ چند ماہ کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ اقتدار کی راہ داریوں سے دوریاں ہوں، وزیر اعظم سے بھی فاصلہ ہو اور آپ کے حریف بھی تاک میں ہوں تو بدگمانیاں مزید بڑھتی ہیں۔
سینیٹ الیکشن میں فاصلے کم کرنے کا موقعہ تھا لیکن ایسا ہو نا سکا اور جہانگیر ترین چینی بحران اسکینڈل کی تفتیشی دلدل میں مزید پھنس گئے۔ سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں کہ پارٹی میں ان کے مخالفین نے عمران کو یقین دلانے کی کوششش کی کہ ترین کی وجہ سے ہی یوسف رضا گیلانی کی جیت ممکن ہوئی، مبینہ طور پر ان کا جہاز بھی گیلانی کے لیے استعمال ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ اگر اس موقع پر جہانگیر خان ترین اپنا علیحدہ دھڑا تشکیل دے کر اپنے سابقہ دوست کو نہ دھمکاتے تو ان کا جیل جانا یقینی تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب عمران خان اور جہانگیر خان ترین کی راہیں ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں اور مستقبل میں بھی انکی سیاسی راہیں جدا ہی لگتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین اپوزیشن کی عمران مخالف تحریک عدم اعتماد میں حصہ ڈالنے کے لیے جلد وطن واپس آ جاتے ہیں یا پھر باہر بیٹھ کر ہی اپنا کردار ادا کریں گے۔
