عمران خان نے جیل بھرو تحریک سے یوٹرن کیوں لیا؟

عمران خان نے جیل بھرو تحریک کے نام سے ایک نیا ڈرامہ رچا رکھا ہے۔ عمران کی جیل بھرو تحریک اس حوالے سے انفرادیت کے حامل ہے کہ اس میں گرفتاریوں کی ترغیب دینے والا عمران خود اپنی گرفتاری کے ڈر سے ضمانتوں کیلئے کبھی لاہور تو کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں بھٹکتا پھر رہا ہے جبکہ گرفتاری دینے والے عمرانڈو رہنما جیلوں میں واویلا کر رہے ہیں کہ ہم تو علامتی گرفتاری دینا چاہتے تھے ہمیں آپ نے سچی میں پکڑ لیا ہے۔ تاہم عمران خان کا اصرار ہے کہ میرے کارکن اب بھی جیلیں بھر دیں گے لیکن کیسے؟ شاید یہ عمران خان کو خود بھی علم نہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں ‘جیل بھرو تحریک’ کی تاریخ گہری جڑیں رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہوتی ہے جس میں ہر ضلع سے اپوزیشن جماعت کے ہزاروں کارکنان جیل جاتے ہیں اور جیلوں کو بھر دیتے ہیں، جس سے حکومت وقت کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن جماعت کے مطالبات کو مانا جائے۔ انگریز سامراج کے دور میں یہ تحریکیں کئی دفعہ کانگریس اور خدائی خدمت گار تحریک نے چلائی ہیں لیکن ان تحریکوں میں پہلے گاندھی جی اور فخر افغان باچا خان خود انگریز حکومت کو گرفتاری دیتے تھے اور پھر دیگر کارکنان اپنے اپنے علاقوں کی جیلوں میں گرفتاریاں پیش کرتے تھے۔

دوسری طرف جب سے عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے سے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا ہے تو کپتان صاحب ہر دن نئے نئے ڈرامے کر رہے ہیں، کبھی اسمبلیاں توڑتے ہیں، کبھی قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دیتے ہیں، کبھی دوبارہ استعفے منظور نہ کرنے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ رضاکارانہ طور پر استعفے دینے کے بعد ضمنی الیکشن کیلئے بھی اپنی پارٹی کے امیدواران کھڑے کر دیتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ ہر روز ایک نیا یوٹرن لیتا ہے۔ ایک نیا ڈرامہ رچاتا ہے۔ موصوف نے اس بار بھی ایک نیا ڈرامہ رچایا ہوا ہے اور ‘جیل بھرو تحریک’ کا آغاز کر چکا ہے۔ لیکن موصوف نے خود گرفتاری کے ڈر سے اپنی ضمانتوں کے علاوہ گزشتہ تین مہینوں سے زمان پارک گھر کے سامنے کارکنان کو چوکیداری پر لگایا ہوا ہے تاکہ انھیں گرفتار نہ کیا جا سکے لیکن کارکنان کو جیل بھرنے کی تاکید کر رہا ہے۔

دوسری جامب عمرانڈوس نے بھی جیل بھرو تحریک کو مذاق بنارکھا ہے۔ پولیس وین کے ساتھ کھڑے ہو کر وکٹری کا نشان بنا کر تصویر بنواتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔ کبھی جلوس کی شکل میں جیلوں کو جاتے ہیں اور پولیس وینوں پر چڑھ کر نعرے لگاتے ہیں اور جیل کی سلاخوں کے ساتھ تصویریں بنوا کر پھر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ موسمی کامریڈوں نے مزاحمتی سیاست کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ حالانکہ مزاحمتی سیاست میں بھاگنا نہیں ہوتا ہے۔ میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان صاحب کو کوئی خطرناک نفسیاتی بیماری لاحق ہو چکی ہے اور اس بیماری میں اپنے آپ کے ساتھ کارکنان کو بھی شریک کر رہا ہے۔ وزارت عظمٰی سے ہٹانے کے بعد موصوف پاگل بن چکا ہے اور پاکستانی سیاست میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے، بلکہ اپنی کرسی کیلئے پاکستان کے وجود پر بھی سودا کرنے کیلئے تیار ہے۔ ناقدین کے مطابق ‘جب سے کپتان آیا ہے، سیاست سے شائستگی ختم ہو چکی ہے’۔ حالانکہ پہلے سیاست ایک مقدس کام ہوا کرتا تھا لیکن موصوف نے سیاست کو اتنا بدنام کر دیا کہ شریف آدمی کو سیاست کے نام سے ڈر لگتا ہے۔ گالم گلوچ، عدم برداشت، ویڈیو لیکس اور دیگر غلیظ کام سیاست میں داخل کرنا کپتان اور پی ٹی آئی کا کارنامہ ہے۔ سیاست تو مکالمہ، دلیل، اخلاق سے شکست دینا اور مخالف کو اپنے کردار سے زیر کرنے کا نام ہے۔ عمران خان نے جو راستہ اختیار کیا ہے اور جس چیز کو سیاست کہہ رہا ہے، یہ سیاست نہیں شاؤنزم ہے۔ یہ عدم برداشت ہے۔ یہ معاشرے کو پولرائزیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ایسے رویوں کو سیاست میں ترک کرنا ہوگا اور سیاست کو اصل روح کے ساتھ دوبارہ سے مقدس خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

کشمیری عسکریت پسندوں کی پاکستان میں ہلاکت کا ذمہ دار کون؟

Back to top button