توشہ خانہ کے پچاس روپے کے تحفے بھی نہ چھوڑنے والے کون ہیں؟

توشہ خانے کے 50روپے کے تحفے بھی نہ چھوڑنے والے کون ہیں؟ سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم پر 20 سال کے تحائف کی رپورٹ جاری کر دی‘ یہ رپورٹ ہمارے حکمران طبقے کی ذہنی افلاس کا مکمل نوحہ ہے۔ 446 صفحات کے اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں‘ یہ خواہ سیاست دان ہوں یا فوجی عہدیدارہوں یاسرکاری افسر ہوں، پوری اشرافیہ نے کمال کر دیا اور یہ یاد رکھیں یہ تمام لوگ انتہائی امیر ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں دولت‘ شہرت اور اقتدار سے نواز رکھا ہے لیکن یہ دل کے انتہائی فقیر ہیں۔ توشہ خانہ کی رپورٹ میں پچاس پچاس روپے کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ اپنے ایک کالم میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے بادشاہت ہو یا غربت ان کا مرکز ذہن ہوتا ہے اور یہ ذہنوں سے نکلتے نکلتے چار نسلیں لگا دیتی ہے‘ بادشاہ کو غریب ہونے میں چار نسلیں لگ جاتی ہیں اور غریبوں کو امیر بنتے بنتے بھی تین چار نسلیں چاہیے ہوتی ہیں۔

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے غربت ہو یا امارت یہ ذہن سے ہمیشہ آخر میں نکلتی ہے لیکن یہ نکلتے نکلتے بھی اپنے آثار چھوڑ جاتی ہے‘ پرانے زمانوں میں شہزادوں اور شہزادیوں کے اصلی ہونے کا اندازہ کرنے کے لیے ان کے بستر میں مٹر کا دانا رکھ دیا جاتا تھا اگر شہزادی یا شہزادہ مٹر کے اس دانے کے باوجود اطمینان سے سو جاتا تھا تو ثابت ہو جاتا تھا وہ جعلی ہے یا کم از کم نجیب الطرفین نہیں ہے۔

یہ خیال کیا جاتا تھا شہزادہ ہو یا شہزادی ہو اور اسے بستر میں مٹر کے دانے کی موجودگی میں نیند آ جائے یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ دور ختم ہو گیا لیکن آج کسی کے نجیب الطرفین اور ذہنی بادشاہت کے اندازے کے لیے توشہ خانہ کافی ہے‘ آپ کسی شخص کو تحفہ دے کر دیکھ لیں آپ کو اس کی ساری اوقات سمجھ آ جائے گی‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ توشہ خانہ کی تازہ ترین رپورٹ پڑھ لیں‘ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ کروڑوں روپے کی گھڑیاں‘ کف لنکس‘ پین‘ مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو گاڑیاں سائیڈ پر رکھ دیں‘ یہ تحفے قیمتی ہیں اور یہ دیکھ کر شاید کوئی بھی شخص اپنا دل مضبوط نہ رکھ سکے لیکن ہمارے حکمرانوں نے بیڈ شیٹس‘ گلاس سیٹ‘ کٹلری سیٹ‘ چادریں‘ گلدان‘ دس دس ہزار روپے کی پینٹنگز‘ گائے کا ماڈل‘ کافی‘ صراحی‘ خنجر‘ پیالہ‘ بک لیٹس‘ٹریکٹر‘ چاکلیٹ‘ شہد‘ قہوہ اور پائن ایپل کا ڈبہ بھی نہیں چھوڑا‘ توشہ خانہ کی رپورٹ میں پچاس پچاس روپے کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ ا س لسٹ سے یہ بھی ثابت ہو گیا بادشاہت اور غربت کا پیسے اور عہدے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا‘ انسان اگر اندر سے بادشاہ ہے تو پھر یہ بہادر شاہ ظفر کی طرح قید میں بھی بادشاہ رہتا ہے اور اگر یہ دل سے بھکاری ہے تو پھر یہ ایوان صدر‘ وزارت عظمیٰ‘ آرمی چیف ہاؤس‘ سپریم کورٹ اور سیکریٹریٹ میں بھی فقیر ہی رہے گا‘ اس کا ہاتھ پھیلا ہی رہے گا۔ہم نے ماضی میں جو بھی کیا ہم نے کر دیا‘ ہمیں بہرحال اب سنبھل جانا چاہیے۔

ہمیں اب رک کر کم از کم توشہ خانے کی پالیسی ضرور بنا لینی چاہیے‘ ہم اسلام آباد میں توشہ خانہ میوزیم بنا دیں اور تمام ممالک کے تحائف ان میں رکھ دیا کریں یا پھر ہر سال ان کی اوپن نیلامی کر کے فروخت کر دیا کریں یا پھر ہم احسن اقبال کی پیروی کریں۔

احسن اقبال نے تین تحائف وصول کیے تھے‘ یہ دو رولیکس گھڑیاں اورکارپٹ تھا‘ انھوں نے قانون کے مطابق 20 فیصد رقم ادا کر کے یہ تحائف لے لیے تھے لیکن رپورٹ آنے کے بعد احسن اقبال نے تحائف کی سو فیصد رقم ادا کر دی‘ حکومت ماضی کی غلطیاں درست کرنے کے لیے یہ پیش کش تمام ’’تحائف برادران‘‘ کو دے سکتی ہے۔یہ لوگ بھی سو فیصد رقم جمع کرا کر اپنا ماضی ٹھیک کر لیں‘ .. جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے فہرست میں ایس ایس جی کے گن مین سپاہی عتیق الرحمن اور کانسٹیبل ملک قاسم محمود کے نام دیکھے‘ یہ دونوں غریب اہلکار ہیں۔

معمولی تنخواہ میں گزارا کرتے ہیں لیکن یہ لوگ دل کے کتنے بڑے بادشاہ ہیں آپ ان کے عمل سے دیکھ لیجیے‘ انھیں بھی گھڑیاں ملیں لیکن انھوں نے یہ توشہ خانہ میں جمع کرا دیں اور 20 فیصد ادا کر کے بھی یہ تحفے حاصل نہیں کیے جب کہ یہ لوگ جن لوگوں کی حفاظت کر رہے تھے وہ یہ تحائف غائب کرتے رہے یا پھر 20 فیصد رقم دے کر تحفے گھر لے گئے لہٰذا آپ دل کے بادشاہ اور دل کے فقیر کا فرق ملاحظہ کر لیجیے۔

معروف ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ ”بڑی استاد “ نکلیں

Back to top button