کیا حافظ کا مذاق اڑانے والے عمران فوج کے خلاف جیت پائیں گے؟

عمران خان کا مسئلہ کوئی ایک جنرل نہیں ہے‘ پوری فوج ہے‘ یہ اسے ’’سیدھا‘‘ کرنا چاہتے ہیں اور یہ اس کھیل میں اکیلے نہیں ہیں۔عمران خان اب خود بھی بے غیرت کا لفظ استعمال کر رہے ہیں اور یہ حافظ اور حاجی کے الفاظ کے ذریعے بھی مذاق اڑا رہے ہیں‘ جنرل عاصم منیر اگر ایک شخص ہوتے تو عمران خان بے شک دن رات ان کا مذاق اڑاتے رہتے لیکن یہ فوج کے سربراہ ہیں اور فوج بہرحال پاکستان کی واحد بائینڈنگ فورس ہے، یہ وہ رسی ہے جس نے پورے ملک کو باندھ رکھا ہے، یہ اگر کھل گئی تو ملک بکھر جائے گا اور بعض اوقات محسوس ہوتا ہے عمران خان یہی چاہتے ہیں۔یہ اس ملک کو توڑ پھوڑ کر برابر کرنا چاہتے ہیں؟
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ میں شروع میں سمجھتا تھا عمران خان کا ایشو صرف جنرل باجوہ ہیں، یہ باقی فوج کے ساتھ کمفرٹیبل ہیں جب کہ جنرل باجوہ میری رائے سے اتفاق نہیں کرتے تھے، ان کا خیال تھا یہ بیٹی کو سنا کر بہو کو سمجھا رہے ہیں، یہ پورے ادارے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، اور وقت نے جنرل باجوہ کی بات سچ ثابت کر دی، آپ آج دیکھ لیں عمران خان کی لڑائی فوج سے جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف بھی اب ٹرینڈز شروع ہو چکے ہیں، لندن اور امریکا میں عمران خان کی حمایت اور فوج کے خلاف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے عمران خان کی آخر فوج کے ساتھ کیا لڑائی ہے۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ کیا یہ جنرل باجوہ سے یہ نہیں چاہتے تھے فوج ق لیگ‘ ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کو ان کے ساتھ بٹھائے اور پی ڈی ایم کو ڈنڈے کے زور پر عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے پر مجبور کرے اور کیا انھوں نے اس کے عوض انھیں ایکسٹینشن کی آفر نہیں کی تھی؟کیا یہ نہیں چاہتے تھے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نہ بنایا جائے اور یہ اس تقرری کو روکنے کے لیے لانگ مارچ لے کر اسلام آباد نہیں آئے تھے اور کیا یہ اب بھی یہ نہیں چاہتے وفاقی حکومت توڑ دی جائے اور ان کی مرضی کی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن بنایا جائے اور مرضی کی تاریخ پر الیکشن کرائے جائیں؟کیا یہ الیکشن سے قبل مخالفین کو جیلوں میں نہیں دیکھنا چاہتے؟یہ دو تہائی اکثریت نہیں چاہتے‘یہ نیا آئین بنانے اور ملک کو پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں چاہتے؟
یہ نیب‘ ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو اکٹھا کر کے وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں کرنا چاہتے اور پھر جنرل فیض حمید کو وزیر داخلہ نہیں بنانا چاہتے اور خان صاحب یہ نہیں چاہتے وزیراعظم، آرمی چیف، چیئرمین نیب اور چیف جسٹس کو کسی بھی وقت ڈی نوٹیفائی کر سکے اور 37 لیفٹیننٹ جنرلز براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہوں اور نیوکلیئر اور میزائل پروگرام بھی وزیراعظم کے کنٹرول میں ہو اور آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے۔آج اگر جنرل عاصم منیر ان کی آدھی خواہشیں مان لیں تو کیا عمران خان اپنی ہر تقریر میں ان کا نام عقیدت سے نہیں لیں گے اور کیا یہ اپنے ہر خطاب سے پہلے ان کی تلاوت نہیں چلوائیں گے؟ چناں چہ میرے خیال میں عمران خان کا مسئلہ کوئی ایک جنرل نہیں ہے‘ پوری فوج ہے‘ یہ اسے ’’سیدھا‘‘ کرنا چاہتے ہیں اور یہ اس کھیل میں اکیلے نہیں ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے‘ آپ آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف یاپھر عمران خان ہوں آپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر کام یاب نہیں ہو سکتے‘ ذوالفقار علی بھٹو اس حقیقت کی خوف ناک مثال ہیں۔
بھٹو صاحب بلا شبہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر تھے اور وہ مقبولیت کے اس زعم میں فوج سے لڑ پڑے تھے اور اس کے بعد ان کے ساتھ وہ ہواجو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے تھا‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے لیے بھٹو صاحب کی قربانی کا اشارہ کافی تھا‘ انھوں نے کبھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی غلطی نہیں کی‘ محترمہ بے نظیر بھٹو1988میں وزیراعظم بنیں تو آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے انھیں حلف سے قبل کھانے پر بلایا‘ ملک ریاض اس واقعے کے گواہ ہیں‘ جنرل اسلم بیگ نے اس رات کھانے کی میز پر بے نظیر بھٹواور آصف علی زرداری سے کہاتھا‘ جنرل ضیاء الحق میرے چیف تھے۔
میری آپ سے درخواست ہے آپ کے دور میں ان کی فیملی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور دوم میرے چیف کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے‘ یہ درخواست حکم تھا اور بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری اس حکم کو سمجھ گئے‘ آپ کو یاد ہو گا‘ بے نظیر بھٹو کے دور میں اعجاز الحق نے جلسہ عام میں کلاشنکوف لہرا دی تھی‘ انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن جنرل نصیر اللہ بابرکو جی ایچ کیو سے ایک فون آیا اور اعجاز الحق دو گھنٹے بعد گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ چائے پی رہے تھے جب کہ شیخ رشید اسی کیس میں دوسال جیل رہے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میاں نواز شریف بھی تین بار اقتدار سے فارغ ہوئے اور تینوں مرتبہ فوج سے مخاصمت وجہ بنی لیکن میاں نواز شریف نے بھی اس لڑائی کو کبھی فوج سے جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیا‘ ان کی جنرل آصف نواز جنجوعہ سے لڑائی تھی لیکن یہ جنرل عبدالوحیدکاکڑکے ساتھ کمفرٹیبل تھے‘ جنرل پرویز مشرف سے ان کا ٹھیک ٹھاک پھڈا ہوا مگر انھوں نے جنرل کیانی کے ساتھ آئیڈیل تعلقات رکھے اور جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے ساتھ ان کے فاصلے تھے مگر یہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ ٹھیک ہیں۔
آپ دیکھ لیں یہ جنرلز سے لڑ رہے ہیں مگر یہ اس لڑائی کو ادارے کے ساتھ لڑائی میں تبدیل نہیں ہونے دے رہے‘ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن بھی اسی ’’فٹ پرنٹ‘‘ پر چل رہے ہیں جب کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کے ساتھ لڑائی کو فوج سے لڑائی میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ اس غلط فہمی کا شکار بھی ہیں کہ میں یہ جنگ جیت جاؤں گا جب کہ حقیقت یہ ہے اس خطے میں انگریز بھی لوکل فوج کی مدد کے بغیر داخل نہیں ہو سکا تھا اور یہ ہمارا ’’ڈی این اے‘‘ ہے۔ آخر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ ملک اوریہ طرز سیاست دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے‘ آپ نے اگرملک کو بچانا ہے تو پھر آپ کو چند بڑے فیصلے کرنا پڑیں گے‘آپ عمران خان کے ساتھ بیٹھیں یا پھر ملک میں دو چار سال کے لیے سیاسی تحریکوں پر پابندی لگا دیں‘آپ کو بہرحال کوئی فیصلہ کرناہو گا‘ ملک اس طرح نہیں چل سکے گااور یہ اس وقت ایک ننگی حقیقت ہے۔
