کیا پی ٹی آئی تین ماہ میں ظل شاہ کو بھی بھول جائے گی؟

کیا پی ٹی آئی تین ماہ میں ظل شاہ کو بھول جائے گی، کاش ظل شاہ زمان پارک جانے کے بجائے کسی منڈی میں مزدوری کر لیتا تو یہ آج زندہ بھی ہوتا اور اس کے گھر میں فاقے بھی نہ ہوتے مگر وہ بے چارہ اقتدار کی بھٹی کا ایندھن بن گیا اور پارٹی نے اس کی لاش بیچنا شروع کر دی‘ ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کر جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے ،. وہ کہتے ہیں کہ آپ آج میری بات لکھ لیں پارٹی چھ ماہ بعد اس کا نام تک بھول جائے گی اور یہ سیاست کی تلخ ترین حقیقت ہے. کاش پارٹیوں کے تمام ظل شاہ اس حقیقت سے واقف ہو سکیں اور یہ پارٹیوں کے ساتھ صرف ووٹ کا رشتہ رکھ سکیں‘ یہ الیکشن کے وقت ووٹ دیں اور باقی پانچ سال اپنی دکانوں‘ دفتروں اور منڈیوں میں کام کریں‘ انقلاب پھر آئے گا‘ لیڈروں کے دروازے پر بیٹھ کر یا سڑکوں پر جان دے کر ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
جاوید چوہدری کالم میں پیپلز پارٹی کے ایک مرحوم کارکن نادر کا قصہ بیان کرتے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے عاشق تھا اور اس عشق میں کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی‘ وہ بسوں‘ ویگنوں اور ٹرینوں میں دھکے کھا کر پارٹی کے ہر جلسے میں پہنچ جاتا تھا ۔
اس کے سر پر پارٹی کا پرچم بندھا ہوتا تھا‘ ہ فوج نے ملک کی9 چھوٹی چھوٹی پارٹیاں جوڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے بنوا دیا تھا اور اسکا لیڈر سڑکوں پر تھا‘ وہ تقریر کرتا تھا تو لوگوں کے دل رک جاتے تھے۔ لیکن پھر وہی ہوا‘ ملک میں مارشل لاء لگ گیا‘ بھٹو صاحب گرفتار ہو گئے اور ان کے ساتھی فرار ہو گئے یا پھر زیر زمین چلے گئے۔
پیچھے صرف ورکرز رہ گئےجو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں مختلف شہروں میں نکلتے تھے‘ کرفیو اور دفعہ 144 توڑتے تھے‘ پولیس کے ڈنڈے کھاتے تھے اور پھر چوٹوں پر ٹکور کر کے دوبارہ سڑکوں پر نکل آتے تھے۔نادر کو اس کے دوست سمیت گرفتار کرکے شروع میں شاہی قلعے کی جیل میں رکھا گیا‘ وہاں اس کے ساتھ وہ سلوک ہوا جس سے اللہ دشمن کو بھی بچائے اوراس کے بعد اسے ملٹری کورٹ سے سات سال قید کی سزا ہو گئی‘ اور اسے کوٹ لکھپت جیل میں پھینک دیا گیا ‘ا س دوران بھٹو صاحب کو پھانسی ہو گئی اور پارٹی تتر بتر ہو گئی‘ نادر اور اس کا ساتھی جیل میں اکیلے تھے اور اس کا وہاں اللہ تعالیٰ اور فیملی کے علاوہ کوئی سہارا نہیں تھا‘ نادر والدین کا اکلوتا بیٹا تھا‘ والد حجام تھا جب کہ ماں لوگوں کے برتن مانجھتی تھی جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا کوئی لیڈر ملک میں نہیں تھا‘ یہ سب امریکا‘ لندن‘ جرمنی اور روس میں بیٹھے تھے اورپارٹی میں کوئی شخص گرفتار کارکنوں کے وجود سے واقف نہیں تھا۔
جنرل ضیاء الحق کی مہربانی سے نادر سات سال کے بجائے سوا پانچ سال میں جیل سے رہا ہوگیا . اس دوران اس کو لا حق ٹی بی کی بیماری بڑھ چکی تھی اور آخر کار نادر صرف بیالیس برس کی عمر میں اسپتالوں میں دھکے کھاتے کھاتے مر گیا نادر کے جیل کے ساتھی دوست نے آخر وقت تک نادر کے والدین کی کفالت کی . اس کے دوست کا کہنا ہے کہ نادر بھی دراصل ظل شاہ تھا . وہ سوا پانچ سال جیل میں دھکے کھانے کے بعد بھی اپنے اندر کا بھٹو نہ مار سکا‘ وہ حقیقت نہ جان سکا۔وہ قبر تک پہنچ کر بھی خود کو پارٹی سمجھتا رہا یہاں تک کہ مٹی‘ مٹی میں مل کر مٹی ہوگئی۔
جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ نادر کے دوست کو یہ سمجھ آ چکی ہے کہ سیاست ایک بزنس ہے اور لیڈر اس بزنس کے سیٹھ ہوتے ہیں‘ یہ صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں‘ مشینیں اور مزدور ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتے‘ ایک مزدور مر گیا تو اس کی جگہ دوسرا آ جائے گا‘ ایک مشین خراب ہو گئی تو یہ اسے کباڑ میں بیچ کر نئی خرید لیں گے اور بس‘ دوسرا ہم نے اگر اپنامقدر بدل لیا تو قوم کا مقدر بھی بدل جائے گا اور ہم اگر نادر اور ظل شاہ بنے رہے تو پوری قوم ظل شاہ بن جائے گی۔
