پاک فوج کو تباہ کرنے کی سازش کرنے والوں کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ آج کل کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پاکستانی فوج کو تباہ کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں‘ لیکن یقین کیجیے کہ اگر کبھی ایسا ہو گیا تو پھر پاکستان بھی نہیں بچے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چودری کہتے ہیں کہ میں بھی فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہوں‘ اور سمجھتا ہوں کہ فوج کو خود کو میدان سیاست سے نکالنا ہو گا، لیکن سوال یہ ہے ہم اگر آج ہم فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تباہ کر دیتے ہیں یا عوام کو فوج پر چڑھا دیتے ہیں جیسا کہ کوشش کی جا رہی ہے تو پھر ملک کو کون سنبھالے گا؟ جاوید چودری کہتے ہیں کہ آپ یقین کریں، اگر ائسا ہو گیا تو پاکستان ایک رات میں چھ حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور ہر حصے میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی‘ سڑکوں اور گلیوں میں لاشیں پڑی ہوں گی اورکسی میں انھیں دفن کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔
جاوید چوہدری یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان کے نامزد کردہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈا پور روزانہ اسلام آباد پر حملے اور قبضے کی دھمکی دیتے ہیں۔ وہ بجلی کا سوئچ بند کرنے اور 1971 کی خونی تاریخ دہرانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں‘ فرض کریں گنڈاپور اپنے عزائم میں کام یاب ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟ کیا آپ کے پی کو الگ ملک بنا لیں گے اور اگر بنا بھی لیں گے تو کیا آپ یہ ملک چلا سکیں گے؟ 10 برس خیبر پختون خواہ میں برسر اقتدار رہنے کے باوجود اگر اج بھی آپ لوگ صوبہ نہیں چلا پا رہے‘ آج بھی کے پی میں گندم پنجاب سے آتی ہے اور فوج روزانہ لاشیں اٹھا کر سرحد کی حفاظت کرتی ہے تو آپ خوراک اور سیکیورٹی کا بندوبست کہاں سے کریں گے؟
وزیر اعظم کی ہدایات نظر انداز، پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کو شیخ مجیب الرحمان سے تشبیہ دینے والے گنڈا پور اور ان کے ساتھیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ گر وہ بجلی بند کر دیتے ہیں اور ملک میں پاور شٹ ڈاؤن ہو جاتا ہے تو بھی کے پی کو کچھ نہیں ملنے والا؟ وہ گنڈاپور سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ایسا ہو جائے تو آپ بجلی سلینڈروں میں بھر کر بیچیں گے۔ ویسے بھی اگر عمران خان رہا ہو جاتے ہیں یا گنڈا پور جیل پر حملہ کر کے انھیں کے پی لے جاتے ہیں تو کیا ہو جائے گا؟ کیا وہ وفاق میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیں گے‘ کیا وہ بادشاہ بن کر تخت پر بیٹھ جائیں گے یا اپنا لشکر بنا کر فوج پر حملہ کر دیں گے۔
جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے آخر کیا کریں گے؟ عمران خان کو وزیراعظم بننے کے لیے بہرحال سسٹم میں آنا پڑے گا اور یہ کام یہ زبردستی نہیں کر سکتے‘ باغی بہرحال باغی ہی رہتے ہیں‘ سسٹم انھیں قبول نہیں کرتا چناں چہ ہمیں ماننا ہوگا ہم من حیث القوم بونگی باز بن چکے ہیں‘ ہم زبان کے مجاہد ہیں‘ ہم میں سے ایک فیصد بونگے ہسپتالوں میں ہیں جب کہ باقی سارے ملک بھر میں کھلے پھر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ بااختیار کرسیوں پر بھی بیٹھے ہیں اور اپنے بونگیوں سے ملک کی مت مار رہے ہیں‘ ہائے یہ مظلوم ملک اور اس کے بے بس عوام۔
