جاوید چوہدری کا اصل فیلڈ مارشل کے بارے میں ہوشربا انکشاف

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ اس کائنات کا صرف ایک فیلڈ مارشل ہے اور اس کا نام ہے اللہ تعالی۔ دنیا جہاں کی ساری فیلڈ بھی اسکی ہے اور مارشل بھی۔ وہ جب چاہتا ہے اختیار، اقتدار اور عزت دے دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھین لیتا ہے سیکنڈز میں ان لوگوں کو محتاج بنا دیتا ہے۔ لہٰذا یاد رکھیں اس کائنات میں حیات بھی اسی کی ہے اور اس حیات کو تاحیات بنانے کی طاقت بھی صرف اور صرف اسی کے پاس ہے، چنانچہ اللہ تعالی کے اختیار میں خیانت کی کوشش نہ کریں، ہم انسان ہیں، ہمارے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم انسان بن کر رہیں اور خدا کی خدائی میں مداخلت کی کوشش نہ کریں۔
اپنی تازہ تجزیے میں سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اقتدار، طاقت اور اختیار سب عارضی اور فانی ہیں۔ کوئی خواہ کتنا ہی طاقت ور حکمران کیوں نہ ہو، وہ ایک روز اچانک بے بس اور محتاج ہو جاتا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہونے والے سابق عراقی صدر صدام حسین کے انجام کی مثال دیتے ہوئے جاوید چوہدری نے اقتدار کی ناپائیداری اور انسان کی بے بسی کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق طاقت، دولت اور اختیار انسان کو وقتی طاقت تو دے سکتے ہیں مگر وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اور حاکم پل بھر میں محکوم بن جاتا ہے۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ 2004 کی گرمیوں میں بغداد کی ایک خصوصی عدالت میں بطور ملزم پیش کیا جانے والا سابق صدر صدام حسین ایک شکستہ حال قیدی نظر آتا تھا، جسے دیکھ کر عدالت میں موجود جج حیرت میں مبتلا ہو گئے۔
بطور قیدی صدام حسین کے کپڑے بوسیدہ، اسکے جوتے پرانے اور اسکی جسمانی حالت کافی کمزور تھی۔ اس کے بال اور ناخن بڑھے ہوئے تھے اور جسم طویل قید کے باعث ڈھل چکا تھا۔ عدالت میں موجود ججوں کے لیے یہ منظر غیر معمولی تھا کیونکہ یہی شخص چند برس قبل تک ان کا باس تھا، جس کے سامنے پیش ہونے کے لیے باقاعدہ تیاری کی جاتی تھی۔ عدالتی کارروائی کے دوران صدام حسین نے جج سے گفتگو کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کی کمی کی نشاندہی کی اور درخواست کی کہ اسے کپڑے دھونے کا سامان دیا جائے، بال اور ناخن تراشنے کی اجازت فراہم کی جائے، اسکے علاوہ صدام نے نئے جوتے بھی مانگے اور محدود سگریٹ نوشی کی سہولت بھی۔ عدالت نے اس کی یہ درخواستیں منظور کیں تو صدام حسین نے زندگی میں پہلی بار اپنے کپڑے خود دھوئے۔ یہ منظر دنیا بھر میں اقتدار کے زوال کی ایک علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق یہی صدام حسین 2003ء تک عراق کا مطلق العنان حکمران تھا۔ اس کے پاس سینکڑوں محلات، ولاز اور فارم ہاؤسز تھے۔ اس کی الماریوں میں ہزاروں قیمتی سوٹس موجود تھے، جن کے انتخاب کے لیے الگ ٹیم تعینات تھی۔ مہنگی ترین خوشبوئیں، شاہانہ گاڑیاں اور بے پناہ دولت اسکے طرزِ زندگی کا حصہ تھیں۔ وہ بیک وقت صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس اور مسلح افواج کا سربراہ تھا، اور اس کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی کسی کو جرات نہ تھی۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ صدام حسین نے 1979ء سے 2003ء تک عراق پر حکمرانی کی، اس دوران ایران کے ساتھ طویل جنگ لڑی گئی اور کویت پر حملہ بھی کیا گیا، مگر داخلی طور پر کوئی اس سے باز پرس نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ اقتدار ختم ہوا، خاندان بکھر گیا اور بالآخر اسے گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔
سعودی عرب نے فیلڈ مارشل کو کنگ عبدالعزیز آرڈر آف دی فرسٹ کلاس ایوارڈ سے نواز دیا
ایک سالہ عدالتی کارروائی کے بعد صدام حسین کو سزائے موت سنائی گئی۔ تاہم عدالت نے صدام کی آخری خواہش پوری نہیں کی۔ صدام نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے پھانسی گھاٹ پر لٹکانے کی بجائے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولی مار دی جائے۔ جج نے حیرت سے پوچھا کہ کیوں؟ صدام نے جواب دیا کہ میں فوج کا کمانڈر ان چیف بھی ہوں۔ پھانسی میرے شایان شان نہیں۔ اس پر جج مسکرا کر بولا، جناب صدر، ہم آپ کو آپ کی مرضی کی موت نہیں لینے دیں گے۔ یوں 30 دسمبر 2006 کو جب مسلم دنیا عیدالاضحی کی نماز پڑھ رہی تھی عین اس وقت صدام حسین کو جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کسی امریکی فوجی نے اپنے موبائل فون سے پھانسی کی فوٹیج بنائی جو بعدازاں وائرل ہو گئی۔ صدام کی لاش کو پھانسی سے اتارنے کے بعد 6 مختلف جگہوں سے خنجر کے ذریعے چھیدا گیا تاکہ اس کے وجود سے زندگی کے تمام آثار ختم ہو جائیں۔ یہ تھا آج کے ماڈرن دور میں دنیا کے مضبوط ترین حکمران کا انجام جو مسلسل 35 سال تک عراق جیسے امیر ملک کا حاکم رہا تھا۔ صدام حسین عراق کا چیف جسٹس بھی تھا، فیلڈ مارشل بھی، وزیراعظم بھی، صدر بھی اور عراقی عوام کا نجات دہندہ بھی لیکن آپ اس کی بے بسی دیکھیں، آخر میں اسے اپنی مرضی کی موت بھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔
