جاوید لطیف کے فیض حمید پر سنگین الزامات، قومی مجرم قرار دے دیا

مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو قومی مجرم قرار دے دیا۔ میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ فیض حمید سرکار کے انویسٹی گیشن سیل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیض حمید نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریاست کے چاروں ستونوں کو متزلزل کیا، جبکہ ان کے مطابق ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیاں بھی فیض حمید ہی ترتیب دے رہے تھے۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ جنرل فیض حمید ان کی چیخیں سننا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنا تشدد کلبھوشن یادیو پر کیا جاتا تو وہ تمام راز اگل دیتا۔
کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے کی ذمہ داری بھی فیض حمید پر عائد ہوتی ہے اور اس حوالے سے سوالات انہی سے کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید صحافیوں کو بھی لاپتہ کرواتے رہے، اس لیے لاپتہ افراد کے معاملے میں انہیں ہی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
