عمران کے بیٹوں کیساتھ جمائمہ خان کے بھی پاکستان آنے کا امکان

عمران خان کی جانب سے اپنی رہائی کے لیے اپنے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کو مجوزہ احتجاجی تحریک کی قیادت کے لیے پاکستان بلانے کے اعلان کے بعد ان کی پہلی اہلیہ جمائمہ خان بھی میدان میں اتر آئی ہیں اور انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ سلیمان خان اور قاسم خان کے ساتھ جمائمہ خان بھی پاکستان پہنچیں گی۔

عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے کہا ہے کہ میرے بچوں قاسم اور سلیمان  کو ان کے والد عمران خان سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ سیاست نہیں ہے، بلکہ ذاتی انتقام ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں عمران خان عدالتی احکامات پر اپنے بیٹوں کے ساتھ فون پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما کا کہنا تھا کہ عمران خان دو سال سے جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اب یہ مؤقف اختیار کیا ہےکہ اگر عمران کے بیٹے اُن سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں تو اُنہیں بھی گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائےگا۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمائمہ خان نے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں اور کسی حکومتی اہلکار کی جانب سے ایسی کوئی گفتگو نہیں کی گئی جس کا حوالہ جمائما دے رہی ہیں۔

دوسری جانب جمائمہ کا کہنا تھا کہ ایسا غیر جمہوری رویہ کسی جمہوری ریاست میں نہیں اپنایا جاتا۔ انکے بقول یہ سیاست نہیں ہے بلکہ ذاتی انتقام ہے۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمائمہ خان نے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر جو الزامات لگائے ہیں ان کی بنیاد وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا ایک بیان ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران کے بیٹوں نے پاکستان آ کر احتجاجی تحریک میں حصہ لیا تو وہ گرفتار ہو جائیں گے اور پھر برطانوی ایمبیسی ہی انہیں بازیاب کرائے گی۔ خیال رہے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے عمران کو حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے ایک خط لکھا تھا لیکن انہوں نے اس تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے پچھلے ہفتے ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے، ان کا کہنا ہےکہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے جب کہ علیمہ خان کا کہنا ہےکہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان امریکہ سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچ کر احتجاجی تحریک کی قیادت گے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت دو مختلف بیانیوں کے ساتھ سامنے آئی ہو۔ پارٹی کے کئی رہنما، چاہے وہ جیل میں ہوں یا باہر، سمجھتے ہیں کہ سیاست میں ضد اور انا سےکچھ حاصل نہیں ہوتا اور یہ کہ ماضی میں احتجاج کر کے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ 26 نومبر کے اسلام آباد دھرنے کی ناکامی کے بعد اب تو ویسے بھی تحریک انصاف خیبر پختونخواکے علاوہ کسی دوسرے صوبے میں لوگوں کو احتجاج کیلئے باہر نکالنے کے قابل نہیں رہی ہے۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ گزشتہ دو سال میں، جیلوں میں وقت گزارنے، احتجاجی کالز دینے اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات سے پارٹی کو کیا کچھ حاصل ہوا۔ جواب یہ ہے کہ الٹا اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کی سیاست نے تحریک انصاف کو کمزور سے کمزور تر کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ عمران کی کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران عمران خان کی جانب سے احتجاج کی جتنی بھی کالز دی گئی وہ مکمل طور پر ناکام ہوئیں۔

تحریک انصاف کے کوٹ لکھپت گروپ کا یہ موقف ہے کہ جمہوریت میں پارلیمان، مذاکرات اور مفاہمت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی کہ عوامی تحریک۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک لمبے عرصے سے جیل میں ہونے کی وجہ سے خان صاحب بہت سی حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے اُنہیں غلط مشورہ اور غلط معلومات دیتے ہیں۔ انکا موقف ہے کہ خان صاحب کو مخبروں کی بجائے اپنے رہنماؤں پر اعتبار کرنا چاہیے۔ انکے مطابق اگر عمران خان چاہتے ہیں کہ اُن کی اپنی اور پارٹی کی مشکلات کم ہوں تو اُن کو اپنے قریبی ساتھیوں کی بات سننی چاہیے۔ قیادت صرف نعرے لگانے یا سخت بیانات دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور لچک دکھانے کا نام بھی ہے۔

5 اگست سے شروع ہونے والی پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر، یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ اگر ایسی تحریکیں دو سال سے مطلوبہ نتائج نہیں دے پائیں تو اب کیا بار ایسا کیا مختلف ہو گا کہ فیصلہ ساز عمران خان کی رہائی کے لیے چلنے والی احتجاجی تحریک کا دباؤ قبول کر لیں گے؟

Back to top button