ولید نے گرفتاری دی ہے اب بھگتے، ضمانت نہیں کرواؤں گی

عمران خان کی جیل بھرو تحریک میں گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال کی والدہ اور لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے جیل بھرو تحریک کو بے مقصد قرار دے دیا ہے . عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی بہو ناصرہ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ یہ کیسی جیل بھرو تحریک ہے جس کا لیڈر عدالت سے حفاظتی ضمانت مانگ رہا ہے۔پہلی جیل بھرو تحریک مہاتما گاندھی نے شروع کی تھی اور وہ سب سے پہلے جیل گیا تھا کیونکہ وہ ایک لیڈر تھا

ایک نیوز ویب سائیٹ کو انٹرویو دیتے ہوۓ  جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے اپنے بیٹے سینیٹر ولید اقبال کی ضمانت کے حوالے سے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے کو سمجھایا تھا کہ ایسا مت کرو، ایسی تحریک کا حصہ بننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ولید اپنی مرضی سے گیا ہے، اس لیے میں اس کی رہائی کے لیے کردار ادا نہیں کروں گی۔

 انہوں نے کہا  کہ میں 36 برس سے قانون پڑھا رہی ہوں، مجھے صورتحال میں عدالتیں قصور وار نظر نہیں آ رہیں۔حالیہ دنوں میں ایک جج نے رہائی کی درخواست کرنے والے پی ٹی آئی کارکن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں کہ آپ اپنی مرضی سے پولیس وین میں بیٹھے، مرضی سے گرفتاری پیش کی ہے، اب جب آپ کو جیل منتقل کیا جا رہا ہے تو ملبہ لاہور ہائیکورٹ پر مت ڈالیں، بلکہ جو آپ کرتے رہے ہیں، اس کے نتائج کو برداشت کریں۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو دور دراز شہروں کی جیلوں میں منتقل کرنے کے سوال کے جواب میں ناصرہ جاوید اقبال  نے بتایا کہ مجھے معلوم ہے کہ پہلے ان کو کیمپ جیل لے کر گئے تھے کیونکہ اس میں ولید بھی شامل تھا چونکہ کیمپ جیل میں قیدیوں کی بھرمار تھی اس لیے ان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا جہاں رش کے بعد ان کو دیگر شہروں کی جیلوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جوکہ بالکل درست تھا۔

سابق جج نے عمران خان کے سیاسی کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جیل بھرو تحریک پہلی مرتبہ گاندھی نے شروع کی تھی جوکہ خود جیل گیا تھا جبکہ عمران خان اپنی حفاظتی ضمانت کروا رہا ہے جبکہ کارکنوں اور رہنمائوں کو جیل بھرنے کا درس دے رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ الیکشن میں ایک ماہ دس روز کا وقت ہے، اس وقت تحریک انصاف کی توجہ انتخابی مہم پر ہونی چاہئے، ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہئے، لیکن یہ لوگ آپ کے اور میرے خرچے پر جیلوں میں بیٹھے ہیں جس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

      واضح رہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا  تھا . 22 فروری کو جب مال روڈ لاہور سے جیل بھرو تحریک کا آغاز ہوا تو شاہ محمود قریشی، اعظم سواتی ، اسد عمر اور سینیٹر ولید اقبال  سمیت دیگر  نے گرفتا ری پیش کی ، اس روز لاہور سے پارٹی کے رہنماؤں سمیت اکیاسی افراد کو گرفتار کیا گیا . جنہیں بعد میں پنجاب کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا . تاہم گرفتاریوںکے ایک روز بعد ہی شاہ محمود قریشی اور اسد عمر وغیرہ کے اہل خانہ کی جانب سے انہیں رہا کرنے کی درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئیں . ان درخواستوں پر طلب کردہ  جواب پر پنجاب حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ بائیس فروری کو گرفتار کیۓ گئے افراد کو ایم پی او قانون کے تحت ایک ماہ تک جیلوں میں نظر بند کیا گیا ہے .

آئین کی دستک دھتکارنے والے ججوں کی اب کیا اوقات ہے؟

Back to top button