جے آئی ٹی کے پی ٹی آئی اراکین سے اداروں پر کی گئی پوسٹوں پر سخت سوالات

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اورسوشل میڈیا ٹیم کی جےآئی ٹی کےسامنے پیش ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے طلب کردہ افراد سے سوشل میڈیا ہینڈلنگ سےمتعلق سوالات کیےگئےجبکہ پاک فوج اور ریاستی اداروں سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس پر بھی سخت سوالات کیےگئے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کوسوشل میڈیا پر پوسٹس سے متعلق سب کچھ دکھایا گیا اور بیرسٹر گوہرعلی خان و دیگر سےپارٹی فنانسنگ سےمتعلق بھی سوالات پوچھے گئے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کےفنانس ڈپارٹمنٹ کے 2 افراد بھی جےآئی ٹی کےسامنے پیش ہوئے۔
ذرائع کا بتانا ہےکہ عالیہ حمزہ اورکنول شوذب کی جانب سےان کے وکیل ڈاکٹر علی عمران جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تاہم جے آئی ٹی نےآئندہ طلبی پردونوں خواتین رہنماؤں کو ہر صورت پیش ہونے کی ہدایت کی۔
ذرائع کا بتانا ہےکہ جے آئی ٹی نےتحریک انصاف کے 15 پارٹی ارکان کوطلب کیا تھا تاہم تحریک انصاف کے صرف 3 رہنما آج جےآئی ٹی میں پیش ہوئے۔
ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام، پی ٹی آئی قیادت جے آئی ٹی کے سامنے پیش
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نےشیخ وقاص اکرم، سلمان اکرم راجہ،خالد خورشید خان، عون عباس بپی، کنول شوذب اور عالیہ حمزہ کوبھی طلب کیا تھا۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جے آئی ٹی کےسوالات پارٹی کے پلیٹ فارم پر ڈسکس کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سےمتعلق سوالات پر بانی پی ٹی آئی سےبھی ڈسکس کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نےکہاکہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں،کسی بھی ادارے کےساتھ خلیج نہیں چاہتے۔
