پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: اپوزیشن کا شدید احتجاج ، نعرے بازی

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔
پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہو رہا ہے،اجلاس کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے کےبعد تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔
تلاوت کلام پاک اورنعت رسول ﷺ ختم ہوتے ہی اسپیکر قومی اسمبلی نےصدر آصف علی زرداری کو خطاب کی دعوت دی تو اپوزیشن نے شدید نعرے بازی اور شور شرابہ شروع کر دیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمرایوب اپوزیشن ارکان سے نعرے لگوا رہے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہنا تھا ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کےساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کےلیےمل کرکام کرنا ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا ایک سال کےدوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کےمثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا،دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ۔
آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ جج آئینی بینچ
صدر مملکت کا کہنا تھالیکن ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اورٹیکس کےنظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے،قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئےمحنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
صدر زرداری کا کہنا تھا ہمارےملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے،انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کےمسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کوسنجیدگی سے لینا چاہیے۔
