صحافی ارشدشریف کے قاتلوں کوسزاکی بجائے ہرجانہ اداکرنےکاحکم

سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے دو سال بعد کینیائی عدالت کے سامنے آنے والے فیصلے نے ریاستی طاقتوں، آزادی اظہار کے دعویداروں اور عالمی ضمیر کی منافقانہ روش کو بے نقاب کر دیا ہے۔  دو سال بعد، کینیا کی عدالت نے مقتول ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق کے مؤقف کو جزوی تسلیم کرتے ہوئے قاتلوں کو لٹکانے یا قتل کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی بجائے پولیس کی ناکامی پر ہرجانے کا حکم دے دیا ہے، تاہم اصل سوال اب بھی وہیں کا وہیں ہے کہ ارشد شریف کا قتل کس نے اور کیوں کیا؟ اور ارشد شریف کے قاتل اب تک محفوظ کیوں ہیں؟

خیال رہے کہ کینیا کی عدالت برائے اپیل نے ارشد شریف کے قتل میں ملوث افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد نہ ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی بیوہ جویریہ صدیق کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی ہےعدالت نے قرار دیا ہے کہ پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی نے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ارشد شریف کی اہلیہ کو قتل کی تحقیقات کی پیش رفت سے متعلق مناسب معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ جس کے تحت انڈپینڈنٹ پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی کو ایک کروڑ کینیائی شلنگ بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ادارے کو 30 روز میں جویریہ صدیق اور کینیا کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کو تحریری طور پر آگاہ کرنا ہوگا کہ ارشد شریف کی موت کی تحقیقات پر کیا پیش رفت ہوئی، کن سفارشات کو ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن کو بھیجا گیا اور اس پر کیا ردِعمل سامنے آیا۔

واضح رہے کہ جویریہ صدیق اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں عوامی معافی، اضافی ہرجانے، فوجداری کارروائی اور قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی ٹرائل کورٹ نے اپیل کنندگان کے مطالبات کو مسترد کر کے کوئی قانونی غلطی نہیں کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات کا حکم دینا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں، بلکہ یہ اختیار متعلقہ تحقیقاتی و قانونی اداروں کو حاصل ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی قانونی ادارہ ہے اور اس سے صرف انہی پہلوؤں پر جواب طلب کیا جا سکتا ہے جو اس کے مینڈیٹ میں شامل ہیں۔

ناقدین کے مطابق کینیائی عدالت کی جانب سے سامنے آنے والا فیصلہ کوئی انصاف نہیں بلکہ صرف قانونی نظام کا دکھاوا ہے۔جس میں متاثرہ خاندان کو رقم دے کر چپ کروادیا جاتا ہے، جبکہ قاتل قانون کے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہا کینیا کی عدالتیں قاتلوں کو بچا رہی ہیں اور کینیا میں بھی وہی کھیل کھیل رہی ہیں جو پاکستان میں برسوں سے جاری ہے مبصرین کے مطابق ارشد شریف کے قتل بارے کینیائی عدالت کا فیصلہ انصاف کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے، مگر اس فیصلے سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ ارشد شریف قتل کے مرکزی کردار آج بھی طاقت کے ایوانوں میں مکمل تحفظ کے ساتھ آزاد گھوم رہے ہیں۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ ارشد شریف کا قتل صحافت پر ایسا حملہ تھا جس نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ قاتل آج بھی آزاد ہیں، جبکہ مرحوم کی بیوہ جویریہ صدیق انصاف کے لیے کینیا کی عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔تاہم دو سال بعد اب کینیا کی عدالت برائے اپیل نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی کو ایک کروڑ کینیائی شلنگ یعنی تقریباً 75 لاکھ پاکستانی روپے ہرجانے کا فیصلہ تو دے دیا ہے، جو کاغذی طور پر تو تسلی بخش لگتا ہے، لیکن سوال وہی ہے: کیا یہ رقم انصاف کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟

دوسری جانب مقتول صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا فیصلے پر جزوی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ ایک حد تک کینیا کی عدالت کے فیصلے پر مطمئن ہیں تام اصل انصاف تب ہو گا جب قاتلوں کو سزا دی جائے گی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے میں دو اداروں کو تحقیقات کا کہا گیا ہے اور انہیں 30 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر انھیں موجودہ فورم سے انصاف نہ ملا تو وہ کینیا کی سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔جویریہ نے پاکستان اور کینیا کے عدالتی نظام کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا: ’کینیا میں فیصلے دو سال میں ہو جاتے ہیں، ہماری طرح 40 یا 50 سال نہیں لگتے۔ چونکہ فیصلے کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے، کم از کم مجھے اتنی تسلی ہے کہ وہاں عدل کے نظام پر کچھ کام ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ نہیں ہو رہا۔‘ جویریہ نے مزید کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں رپورٹ پیش ہونے کے بعد ہی اصل انصاف ممکن ہوگا۔ ’لیکن لگتا ہے کہ دنیا کی ہر پولیس تاخیری حربے اپناتی ہے۔ یہاں بھی پولیس وقت ضائع کر رہی ہے

مبصرین کے مطابق ارشد شریف کا قتل صرف ایک قتل نہیں بلکہ آزادی صحافت پر حملہ تھا۔ کینیا کی عدالت کا موجودہ فیصلہ انصاف کی جانب ایک قدم ضرور ہے، لیکن انصاف کی منزل ابھی بہت دور ہے کیونکہ آج بھی ارشد شریف کے قتل میں ملوث پولیس اہلکار یا تو معطل ہونے کے بعد بحال ہو چکے ہیں یا پھر سزا سے مکمل طور پر بچ نکلے ہیں۔

Back to top button