سپریم کورٹ انصاف کی بجائے سیاست کیوں کرنے لگی؟

سپریم کورٹ میں اس وقت قانون اور اصول عملا ختم ہو چکے ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دو دھڑے ہیں، دونوں کوشش کر رہے ہیں کہ میری بالادستی قائم ہو، بدقسمتی سے وہی کچھ ہو رہا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا، ایک طرف ملک کی سب سے بڑی عدالت تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے، دوسری طرف حکومت اور عدالت عظمیٰ تصادم کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حسن ایوب خان کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے میں اس وقت جو ہورہا ہے وہ انصاف نہیں ہورہا،سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آگیا ہے تو پھر آئین کے مطابق سپریم کورٹ کا بنچ بننا چاہئے،سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نےکہا کہ عجیب سی بات ہے کہ جب کسی جج کی نوکری کا معاملہ ہوتا ہے تو فل کورٹ ضرور بنتا ہے لیکن آج قومی مسئلے پر فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جا رہی ہے۔ سینئر صحافی حسنات ملک نے کہا کہ اس وقت قانون رولز تو ہیں ہی نہیں ایسا لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دو دھڑے ہیں ۔ دونوں کوشش کررہے ہیں کہ میری بالادستی ہو۔میزبان سلیم صافی نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ بدقسمتی سے وہی کچھ ہورہا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا، ایک طرف ہمیں ملک کی سب سے بڑی عدالت تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے دوسری طرف حکومت اور عدالت عظمیٰ تصادم کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حسن ایوب خان نے کہا کہ میرا چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ اچھا ریلیشن تھا آج بھی میری طرف سے تو قائم ہے لیکن میری ذاتی رائے میں اس وقت سپریم کورٹ میں جو ہورہا ہے وہ انصاف نہیں ہورہا۔ اس میں چیف جسٹس حق بجانب نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے انصاف فراہم کرنا ہے تو انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں آج کل جب بنچز تشکیل پاتے ہیں تو سوشل میڈیا پر اور واٹس ایپ میسجز میں لوگ پہلے ہی بتادیتے ہیں کہ اس مقدمہ کا فیصلہ کیا ہونے جارہا ہے، یہ ریشو بتادیتے ہیں کہ یہ 3-2کا فیصلہ آئے گا یا 4-2کا فیصلہ ہوگا یا یہ متفقہ فیصلہ آئے گا، حسن ایوب کا مزید کہنا تھا کہ اس حد تک تاثر آچکا ہے۔
سپریم کورٹ میں اتنی زیادہ جانبداری چل رہی ہے ، پاکستان تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی جماعت ہے، ٹھیک ہے وابستگی ہوگی، ان کی فیملیز کی بھی وابستگی ہوگی لیکن چیف جسٹس کو اور دیگر ججوں کو دیکھنا چاہئے کہ انھیں انصاف کرنا ہے، ان کو اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ کسی کے لئے ان کا سافٹ کارنر ہے۔ سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا کہ اب پچیس مئی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی ہوئی، اس کے بعد تمام اداروں نے اپنی رپورٹس دیں، وہ رپورٹس آج تک سپریم کورٹ آف پاکستان میں موجود ہیں اس کو ردی بنادیا ہے لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔
تحریک انصاف کی عدالت عظمی میں دی گئی کمٹ منٹ اور یقین دہانیوں کے بعد سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو جی نائن اور ایچ نائن کے درمیان کے علاقہ میں جلسے کی اجازت دی تھی، اور سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے وکلاء نے assurance دی تھی اور پھر اس کے بعد ان کو کہا گیا تو وہ سینٹورس کے سامنے تک تو پہنچ گئے تھے، پھر جو آگ لگائی گئی، عمران خان کا کنٹینر بھی سینٹورس کے پاس پہنچ گیا تھا اور جو ان کے ورکرز تھے وہ تو ڈی چوک تک پہنچ گئے تھے، آپ احتجاج کرنے جارہے ہیں تو جہاں پر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے آپ کو اجازت دی ہے وہیں پر جاکر احتجاج ریکارڈ کروانا ہے آپ خلاف ورزی نہیں کرسکتے، جب آپ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں assurance دی ہے تو یہ سب کچھ ہوا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ، وہ رپورٹس بھی موجود ہیں لیکن چیف جسٹس نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
حسن ایوب خان نے کہا کہ باقی کسی کے اوپر آتا ہے تو آپ دیکھ لیں کہ طلال چوہدری، نہال ہاشمی، دانیال عزیز، ان تین لوگوں کو نااہل کیا گیا، اس کے ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف کو نہ صرف آپ نے نااہل کردیا بلکہ اس کے بعد 62ون ایف کی تشریح کی اور ان کو تاحیات نااہل قرار دیدیا، موجودہ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ یہ ایک سیاستدان کا جیوڈیشل مرڈر ہے، ان کے اپنے پاس اختیار تھا سوموٹو ریویو کر کے سپریم کورٹ آج بھی 62ون ایف کو ختم کرسکتی ہے، اس کی تشریح کرسکتی ہے کہ یہ تاحیات نہیں ہے یا پانچ سال کیلئے ہے یا ون ٹائم ہے، تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اس طرف نہیں جائیں گے، یہاں سی سی پی او لاہور کے ٹرانسفر کا کیس تھا اس کیس کے اوپر دو ججز اپنا نوٹ لکھتے ہیں اس کے اوپر سپریم کورٹ سوموٹو لیتی ہے اور کیس شروع ہوجاتا ہے۔
اس کیس میں نو رکنی بنچ بنا جو اب تین ممبرز پر آچکا ہے، یہ وہی تین ممبرز ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتیں جو اس وقت حکومت میں موجود ہیں وہ تمام کی تمام جماعتیں عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہیں، سول سوسائٹی اور پاکستان بار کونسل جو وکلاء کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے وہ کہہ رہی ہے فل کورٹ بنائیں لیکن چیف جسٹس فرمارہے ہیں نہیں، بیس گھنٹے ہمارے گزرچکے ہیں، ہم بیس گھنٹے کا وقت ضائع نہیں کرسکتے، حسن ایوب کہتے ہیں کہ معاملات کو آگے چلانے کیلئے اتفاق رائے ناگزیر ہے۔چیف جسٹس کو چاہئے کہ لوگ ان کے فیصلوں پر اعتماد اور یقین کریں، اس کیلئے سب سے بہتر حل فل کورٹ بنانا تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ 90دن میں الیکشن ہوں گے، اس کے بعد پھر سپریم کورٹ میں یہ معاملہ نہیں جانا چاہئے، لیکن اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آ گیا ہے تو پھر آئین کے مطابق سپریم کورٹ کا بنچ بننا چاہئے، آئین کے اندر یہ گنجائش نہیں ہے کہ چیف جسٹس اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایسا بنچ بنائیں جس میں خاص قسم کا فیصلہ آئے، آئین اس کی اجازت نہیں دیتا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التواء کے کیس کی سماعت کیلئے پہلے پہل نو ججوں کا بنچ بنا جو دیگر ججز کے بینچ سے الگ ہونے کے بعد سکڑ کر تین ججوں کا بنچ رہ گیا، اس طریقے سے فیصلے نہیں ہوتے، ایشو یہ نہیں ہے کہ جج بھی یہی چاہتے ہیں کہ 90 دن میں الیکشن کا انعقاد ہو اور کوئی اور بھی یہی چاہتا ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہی ہوں، اگر یہ 90دن آئین کی منشاء ہیں تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال خود اکیلے بیٹھ کر یہ فیصلہ کردیں کیونکہ آئین میں بھی 90دن ہے اور بندیال صاحب بھی یہی کہہ رہے ہیں، پھر سپریم کورٹ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ آئین کہہ رہاہے ، ایشو یہ ہے ہی نہیں کہ 90دن میں الیکشن ہونے چاہئیں یا نہیں، اس وقت ایشو یہ ہے کہ آپ نے نو ججوں کا بنچ بنایا، آپ کو چھ ججز چھوڑ کر چلے گئے۔
مطیع اللہ جان نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے بینچ کی تشکیل کا اختیار قانون میں نہیں ہے یہ سپریم کورٹ کے قواعد میں ہے، قانون ابھی پارلیمنٹ بنائے گی اور پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون اور آئین کے مطابق قواعد ترتیب دیئے جائیں گے۔ چیف جسٹس کا جو انتظامی اختیار ہے وہ اس انتظامی اختیار کا فائدہ لے کر آئین کی تشریح کیلئے آئینی اختیار کو manipulate نہیں کرسکتے، اس میں ردوبدل نہیں کرسکتے۔اس وقت موجودہ بینچ کا پوری قوم کو پتا ہے کہ یہ تین ججز کیا فیصلہ دیں گے۔ سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب عاصمہ جہانگیر کہا کرتی تھیں کہ مادر پدر آزادی نہیں ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ کسی سائل کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میری مرضی کے جج کے سامنے کیس لگائیں، اسی طرح کسی جج کا یہ اختیار نہیں ہے کہ مخصوص مقدمہ میں نے ہی سننا ہے، جب کوئی جج اس طرح کی بات کرے تو وہ اسی وقت نااہل ہوجاتا ہے لیکن یہاں پر تو کلاس فیلو ہیں جو ایک پولیٹیکل پارٹی کے دوست ہیں اور وہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ ہیں اور جب آپ چیف جسٹس بنتے ہیں تو وہ واحد آدمی چیف جسٹس ہاؤس کے اس عشائیہ میں ہوتا ہے، ٹھیک ہے جج کے اپنے تعلقات ہوتے ہیں اس کی فیملی بھی ہے اس کے دوست بھی ہوتے ہیں۔
اعتراض کی بات نہیں ہے لیکن پھر آپ کو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے کہ اگر میرے ساتھ کسی کا ذرا سا بھی تعلق ہے تو مجھے وہ چیز نہیں سننی چاہئے، آپ کو ویسے ہی نہیں سننی چاہئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے فل کورٹ کی بات کی تھی،عجیب سی بات ہے کہ جب کسی جج کی نوکری کا معاملہ ہوتا ہے تو فل کورٹ ضرور بنتا ہے، چاہے وہ افتخار چوہدری ہوں، چاہے وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہوں، جب ایک قومی ایشو ہے، پنجاب یا خیبرپختونخوا آپ دونوں کو ملالیں ، اس کا اتنا بڑا ایشو ہے، جو پورے پاکستان کی سیاست کو چینج کردے گا یا حق حکمرانی کو ہر چیز بدل دے گا، اس پر کون سی یہ نازیبا استدعا ہے کہ ایک فل کور ٹ بنادیجئے، کیا فرق پڑتا ہے،۔سینئر صحافی حسنات ملک نے کہا کہ اس وقت قانون رولز تو ہیں ہی نہیں ایسا لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دو دھڑے ہیں ۔ دونوں کوشش کررہے ہیں کہ میری بالادستی ہو تاہم دونوں اطراف قانون کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔
