حکومت کا سپریم کورٹ کو بھی کٹہرے میں لانے کا فیصلہ

حکومت نے پارلیمنٹ کی بالادستی کی جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ جس کیلئے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے قانون سازی سمیت مختلف تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد عدلیہ کے ’’جارحانہ رویے‘‘ اور دباؤ سے نمٹنے کیلئے سہ جہتی حکمت عملی مرتب کرنے پر غور کر رہا ہے عدلیہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں پارلیمنٹ کو مرکزی محاذ بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اختیار کردہ موقف کے حوالے سے سخت الفاظ پر مشتمل ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔وزراء کی جانب سے جو قرارداد تیار کی جا رہی ہے اس میں چیف جسٹس پاکستان سے اصرار کیا جائے گا کہ وہ فل بینچ تشکیل دیں جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے ججوں کیخلاف ریفرنس لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جسے سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کیا جائے گا جبکہ ’’توہینِ پارلیمنٹ‘‘ کے تحت سزا کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکمران اتحاد کے سربراہان کی مشاورت سے معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف توہین پارلیمنٹ کا مجوزہ قانون ’’توہین عدالت‘‘ کے قانون جیسا ہی ہوگا جس میں قید اور جرمانہ دونوں سزاؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد میں سے کسی کو بھی اس قانون پر استثنیٰ نہیں ہوگا ذرائع کے مطابق ایک اور تجویز یہ بھی ہے کہ توہین عدالت کے قوانین کو ختم کر دیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہذب ممالک میں توہین عدالت کے قوانین موجود نہیں کیونکہ اسے انسانی وقار کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد مشاورت سےحکمران اتحاد کی حتمی حکمت عملی واضح ہو جائے گی۔ذرائع کے مطابق نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے ہر طرح کھ سخت اقدامات اٹھانے پر متفق ہیں کیونکہ تینوں نے اس معاملے پر سخت موقف کے حوالے سے اتفاق رائے کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ بننے والے وزراء کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم قانونی ماہر اور الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 248 کے تحت وزیراعظم اور کابینہ ارکان کسی بھی سپریم کورٹ کو جواب دہ نہیں ہیں، عرفان قادر کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی قانونی حیثیت ہے اور اسے آئین کے تحت حاصل مینڈیٹ میں سپریم کورٹ بھی کمی نہیں کر سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ اس ملک میں اتنی اندھیر نگری نہیں ہوسکتی کہ سپریم کورٹ ایسا آرڈر دے گی جو نہ صرف غیر قانونی اور غیر آئینی ہو بلکہ سپریم کورٹ کی اکثریت کے آرڈر کے خلاف ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اب حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم نہیں کرے گی وزیراعظم قانون کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے آئینی پوزیشن لے لی اور ایگزیکٹوڈومین میں سپریم کورٹ کے گھسنے کے آگے بند باندھ دیا تو انھیں نہ کوئی طلب کر سکتا ہے اور نہ ان پر اس حوالے سے کوئی قانونی قدغن ہے۔
دوسری جانب سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو جس طرح عدلیہ کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے یہ بہت خطرناک ہے. سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف پارلیمنٹ کی قرارداد سے حالات مزید خراب ہوں گے.
