دو لڑکیوں کے قاتل جج کے بیٹے کی حوالات میں عیاشیاں

 

 

 

معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں تیز رفتار گاڑی سے سکوٹی کو ٹکر مار کر دو لڑکیوں کی جان لینے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محمد آصف کا بیٹا تھانہ سیکرٹریٹ میں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے وقت گزار رہا ہے، ملزم ابوزر کو نہ صرف تھانے میں نیا میٹرس، تکیہ اور کمبل فراہم کیا گیا ہے بلکہ اس کی انگریزی کھانوں سے تواضع بھی کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ملزم ابوزر کو مکمل پروٹوکول فراہم کیا جا رہا ہے اب تو ملزم کی بیرک میں پہلے سے موجود قیدیوں کو دیگر بیرکوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے آرام اور پرائیویسی میں کوئی خلل نہ پڑے۔ ذرائع کے مطابق ملزم کو حوالات میں موبائل اور انٹرنیٹ سمیت تمام ضروریات زندگی کی آسائشیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ایک کانسٹیبل کو باقاعدہ اس کی فرمائشیں پوری کرنے کیلئے تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کے نام پر حوالات میں قید ملزم ابوزر فل عیاشی کا وقت گزار رہا ہے۔ وہ زیادہ تر تو آرام کرتا ہے جبکہ فری ٹائم میں موبائل پر گیمز کھیل کر وقت گزاراتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پولیس حکام کی جانب سے ملزم ابوزر کے بیرک کے حوالے سے سخت سیکیورٹی احکامات جاری کئے گئے ہیں اس کی بیرک کی طرف کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اس کے ساتھ ساتھ تھانے میں آنے والے افراد کے موبائل فونز پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ملزم کی حوالات میں عیاشیوں کی کوئی ویڈیو یا تصویر باہر نہ جا سکے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے سیکریٹریٹ چوک میں پیر کی شب ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محمد آصف کے کم عمر بیٹے ابوزر نے موبائل پر ویڈیو بناتے ہوئے تیز رفتار لینڈکروزر سے ٹکر مار کر دو نوجوان لڑکیوں کی جان لے لی تھی۔اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق سمرین حسین اور ان کی دوست تابندہ بتول، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس سے گھر واپس جا رہی تھیں۔ اس دوران تیز رفتار لینڈ کروزر نے انہیں پیچھے سے ٹکر ماری جس کے بعد دونوں لڑکیوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ دم توڑ گئیں۔ پولیس کو ملزم ابوذر نے بیان دیا تھا کہ حادثے کے وقت وہ اسنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا اور واقعے کے بعد اس نے اپنا موبائل فون کہیں پھینک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کم عمر ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ منگل کو عدالت نے 16 سالہ ابوذر کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اُسے پولیس کے حوالے کردیا۔ تاہم اب آئین و قانون کے مطابق کیس کو انجام تک پہنچانے کے دعوے کرنے والی اسلام آباد پولیس ملزم ابوزر کو دوران تفتیش فل پروٹوکول دیتی نظر آتی ہے۔

 

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اطلاعات سامنے آنے پر سخت رد عمل سامنے آ رہا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برسراقتدار اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بد مست ہاتھی کی طرح ہیں جو عوام کو کیڑے مکوڑے کی طرح کچل ڈالتے ہیں پاکستان میں آ ئین و وقانون نام کی کوئ چیز نہیں بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔

 

ناقدین کے مطابق ملزم کو عدالتی ریمانڈ کے دوران پولیس کی جانب سے دئیے جانے والے پروٹوکول کیس کے تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جج کے بیٹے کی حوالات میں عیاشیوں کا سن کر بالکل حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ اشرافیہ کا پاکستان ہے۔  ہاں اگر اسکے برخلاف ہوتا تو سچ میں حیرت ہوتی۔ بعض سوشل میڈیا صارفین کے مطابق جس تھانے میں عام آدمی کو کرسی بھی نصیب نہیں ہوتی، وہاں ایک قاتل مزاج ملزم کو پروٹوکول دینا اس نظام کے منہ پر تھپڑ ہے۔ پہلے ریمانڈ لیا جاتا ہے، پھر “تفتیش” کے نام پر حوالات کو آرام دہ سوئٹ بنا دیا جاتا ہے۔ایسے میں کیس کی شفافیت کی امید کرنا خود فریبی ہے۔ یہ کیس نہیں، نظامِ انصاف کا امتحان ہے۔ اگر وردی، عہدہ اور تعلقات قاتل کو تحفظ دیں گے تو عام شہری کی جان کی قیمت کیا رہ جائے گی؟ پاکستان میں حقیقی انصاف تب ہی آئے گا جب طاقتور اور عام آدمی کے لیے ایک ہی قانون ہو گا ورنہ یہ پروٹوکول ہی ثابت کرتا ہے کہ جرم نہیں، طاقت اہم ہے. صحافی احسان واحد نے واقعے پر سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ “ کیا جسٹس محمد آصف اپنے بیٹے کی گاڑی کے نیچے آنے والی دو بیٹیوں کو انصاف دیں گے ؟ کیا وہ بتائیں گے کہ کس بنیاد پر انہوں نے کم عمر بیٹے کو بغیر لائسنس گاڑی پکڑا دی ؟ جیسے پنجاب میں بچوں اور والدین پر مقدمات ہو رہے ہیں۔ کیا ان پر بھی ہوگا؟”تاہم دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق جج محمد آصف نے متاثرہ فیمل سے آؤٹ آف کورٹ صلح کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سینئر صحافی اسد ملک کے مطابق جج کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ واقعے کے وقت جج صاحب سو رہے تھے اور ان کا بیٹا گاڑی لے کر باہر چلا گیا تھا۔ بعد ازان جب حادثہ ہوا تو ملزم کو فوری تحویل میں لے لیا گیا۔ اسد ملک نے بتایا کہ اس کیس میں قتل کی دفعہ لگانے کی بجائے سیکشن 322 لاگو کیا گیا ہے جو قتل بالسبب سے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کا جان لینے کا ارادہ نہیں تھا مگر غفلت سے جان چلی گئی۔ اسد کے بقول اگرچہ عام طور پر یہ قابل ضمانت جرم ہے لیکن چونکہ ملزم نابالغ ہے اور اس کے پاس لائسنس نہیں تھا اس لیے کیس ناقابل ضمانت بن گیا۔

کیا عمران کی عوامی مقبولیت کی بڑی وجہ مظلومیت کا تاثر ہے؟

اسد ملک کا کہناتھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محمد آصف سمیت مختلف سٹیک ہولڈرز کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششیں جاری ہیں۔چونکہ یہ قتل عمد نہیں ہے اس لیے عمر قید یا موت کی سزا کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم اگر متاثرہ خاندان نے صلح نہ کی تو معاملہ ٹرائل تک جائے گا جس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو چند برس کی سزا ہو سکتی ہے تاہم ماضی کے کیسز کو دیکھتے ہوئے اندازہ یہی ہے کہ آخر میں متاثرہ فیملی دیت لینے پر آمادہ ہو جائے گی اور ملزم ضمانت پر رہا ہو جائے گا۔

 

Back to top button