ججزٹرانسفراورسنیارٹی قانون کے مطابق ہے،سپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ نے ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دے دیا۔
فیصلے کے مطابق ججز کا ٹرانسفر عدلیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ سینیارٹی کے تعین کا معاملہ صدر پاکستان کے پاس جاتا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدر کو ججز کی منتقلی کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اقدام جج کی رضامندی اور مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ججز کے ٹرانسفر سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی اور اس عمل میں کسی قسم کی بدنیتی یا انتقامی کارروائی ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کا سیکشن 3 تبادلے میں رکاوٹ نہیں بنتا اور نہ ہی صوبائی نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ججز کی سینیارٹی کا تعین صدر پاکستان کریں گے، جبکہ یہ بھی صدر کے اختیار میں ہے کہ ٹرانسفر مستقل ہوگا یا عارضی۔
خیال رہے کہ 19 جون کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 3 ججز کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے کو 3-2 کے تناسب سے آئینی و قانونی قرار دیا تھا اور پانچ ججز کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ججز کی منتقلی کو تقرری نہیں سمجھا جا سکتا، دونوں معاملات آئین کی الگ الگ دفعات کے تحت ہیں۔
