جے یوآئی،پی ٹی آئی کامشترکہ آئینی ترمیم کامسودہ تیارکرنیکافیصلہ

پاکستان تحریک انصاف اورجمعیت علمااسلام(ف)نےمشترکہ طورپرآئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرنےکافیصلہ کرلیا۔
ذرائع کےمطابق مولانافضل الرحمان سےپی ٹی آئی کےسینیئر رہنماسلمان اکرم راجا اور سنی اتحاد کونسل کےسربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی ملاقات میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع نےبتایا کہ پی ٹی آئی کےرہنما معروف قانون دان سلمان اکرم راجا اور سینیٹر کامران مرتضیٰ ملکرآئینی ترمیم کامسودہ تیار کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان سےسلمان اکرم راجا اورصاحبزادہ حامد رضا کی ملاقات کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے۔آئینی عدالت کےمعاملےپرمولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی وفد کےدرمیان تفصیلی گفتگوہوئی۔
پی ٹی آئی کے وفدنےمولانا فضل الرحمان کو کہاکہ موجودہ صورتحال میں آئینی عدالت کا مقصد بدنیتی پر مبنی ہےاورحکومت چاہتی ہے کہ آئینی عدالت کے ذریعے پی ٹی آئی کوکریش کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نےپی ٹی آئی کےوفد کویقین دہانی کروائی کہ اس معاملےپرہم اپنا کندھا استعمال نہیں ہونےدیں گے۔
پی ٹی آئی کےوفدنےمولانا فضل الرحمان کو کہاکہ اگرآپ آئینی عدالت کی تشکیل کے لیےرضا مندہیں تو یہ ترمیم2ماہ بعدبھی کی جاسکتی ہے۔موجودہ صورتحال میں آئینی عدالت کا مقصد تو فرد واحدکونوازنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نےپی ٹی آئی کےوفد کویقین دہانی کروائی کہ اپوزیشن کا جو بھی فیصلہ ہوگا متفقہ ہوگا اور ایسی کسی قسم کی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کی جائے گی جس کےپیچھے مقاصد کچھ اورہوں گے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئےسلمان اکرم راجانے کہاکہ یہ تاثردیا جارہا ہے کہ فضل الرحمان آئینی ترمیم پرحکومت کاساتھ دینےجارہےہیں۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ بنے،ہم آئین پر شبخون نہیں مارنے دیں گے۔
وزیراعظم سےبل گیٹس کی ملاقات، پولیو کے خاتمے کیلئے تعاون کو سراہا
واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نےکہا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ہم اپنا اپنا آئینی مسودہ تیار کریں گے، اور کوشش کی جائے گی کہ اتفاق رائے کیا جائے۔
