90 روز کے اعلان پر جنید اکبر بھی گنڈا پور کے خلاف کھڑے ہو گئے

بشری بی بی کی سابقہ ترجمان عالیہ حمزہ کے بعد اب تحریک انصاف خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی علی امین گنڈا پور کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور یہ موقف اپنا لیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے موقف کے برعکس 90 روز کی بات کر کے احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے پارٹی قیادت کو 5 اگست سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے لاہور میں پارٹی کے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور جماعت کے صوبائی صدر جنید اکبر کی موجودگی میں 90 روزہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران کو رہا کروا لیں گے یا پھر سیاست چھوڑ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’90 دن کل رات سے شروع ہو گئے ہیں اور ان 90 روز میں ہم آر یا پار کر دیں گے۔‘

اس بارے میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ 90 روزہ تحریک کا مشورہ کس نے دیا اور اس کا فیصلہ کب ہوا۔ جنید اکبر نے کہا کہ انھیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں اور ناں ہی وہ اس بارے میں کوئی بات کر سکتے ہیں۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ وہ تو خود اس پریس کانفرنس میں گنڈاپور کے ساتھ موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو سب کہتے کہ جماعت میں اتحاد نہیں اور یہ سب تقسیم ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ لاہور گئے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ یہ کہتے ہیں کہ انھیں اس تحریک کے اعلان کا علم نہیں لیکن اس بارے میں اگر بات کرنی ہے تو علی امین گنڈاپور سے کریں جنھوں نے یہ اعلان کیا ہے۔‘

اس بارے میں جماعت کے سینیئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا اعلان کرنا علی امین کا نہیں بلکہ جماعت کا کام تھا۔ پھر جب پریس کانفرنس میں مرکزی چیئرمین اور صوبائی صدر موجود تھے تو علی امین نے یہ اعلان کیسے کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں تنظیمی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے تھی اور باقاعدہ اعلان ہونا چاہیے تھا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کی رہائی کے معاملے پر ان کی جماعت ایک بار پھر الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔

گذشتہ ہفتے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک طویل پیغام میں یہ اعلان کیا گیا کہ 5 اگست سے پی ٹی آئی ملک گیر احتجاج کا آغاز کرے گی۔ عمران خان کے پیغام میں لکھا گیا کہ ’پانچ اگست کو میری ناحق قید کو پورے دو برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔‘ پیغام میں لکھا گیا کہ ’اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔‘ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر یہ اعلان آٹھ جولائی کو کیا گیا تاہم اس کے صرف چار روز بعد یعنی 12 جولائی کو اچانک ہی پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے یہ اعلان کر دیا کہ یہباحتجاجی تحریک 90 روز پر مشتمل ہو گی۔ اسلام آباد میں مختصر اجلاس کے بعد علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے متعدد سینیئر قائدین اچانک لاہور پہنچ گئے۔ لاہور روانگی سے قبل تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک سے متعلق اعلان عمران خان خود کریں گے۔

لیکن لاہور پہنچنے پر علی امین گنڈاپور نے پارٹی کارکُنان اور ممبران صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی سے متعلق کہا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کروائیں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے۔‘ اس اعلان کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے یہ تحریک نہ صرف متنازع بنتی نظر آ رہی ہے بلکہ اس سے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کا بھی اشارہ ملتا ہے۔

پشاور کے رہائشی سینیئر صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ’گنڈا پور نے 90 دن کا وقت دے کر یہ تاثر دیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت مخالف احتجاجی تحریک فوری طور پر شروع نہیں کی جا سکتی اور یہ کہ اس میں ابھی وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان کر کے علی امین نے اپنے لیے مزید سپیس یا وقت حاصل کیا۔‘ پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کے حوالے سے علی اکبر کا کہنا تھا کہ علی امین پر تنقید تو شروع دن سے ہوتی رہی ہے اور جماعت کے اندر پہلے چھپ چھپ اور دبے الفاظ میں تنقید کی جاتی رہی لیکن اب تو جماعت کے اندر سے کھل کر تنقید کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لیکن جب تک علی امین وزیر اعلی کے عہدے پر موجود ہیں وہ اپنی پوزیشن سمجھتے ہیں۔

Back to top button