مریم نواز سے میچ پڑنے کے بعد جسٹس عالیہ کی تبدیلی کا امکان

 

 

 

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے مریم نواز حکومت کا نافذ کردہ پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس معطل کیے جانے کے بعد اب یہ افواہیں گرم ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں جسٹس عالیہ نیلم کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس عالیہ کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ کی معطلی پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے سخت ردعمل کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہے۔

 

یوں یہ تنازع محض ایک قانون کی معطلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پنجاب میں عدلیہ اور انتظامیہ کے تعلقات، اختیارات کی تقسیم اور آئینی حدود سے متعلق ایک وسیع تر بحث کو جنم دے دیا ہے۔

 

باخبر ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اور طاقتور حلقے اس فیصلے کو ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ حکومت کے انتظامی اختیارات کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت اور طاقتور حلقے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں تعیناتیوں، الیکشن ٹربیونلز کی نامزدگیوں اور مقدمات کی تقسیم کے حوالے سے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان سے نالاں تھے لیکن عالیہ نیلم کے چیف جسٹس بننے کے بعد فیصلہ سازوں اور عدلیہ کے باہمی تعلقات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس بہتری کے نتیجے میں سب سے پہلے الیکشن ٹربیونلز کی تقرری کا معاملہ الیکشن کمیشن اور انتظامی حکام کی خواہش کے مطابق حل کر لیا گیا۔ اس کے بعد جسٹس عالیہ نیلم نے اینٹی ٹیررازم کورٹس کے ان ججوں کے تبادلے بھی کر دیے جنہیں انتظامیہ ناپسندیدہ سمجھتی تھی اور جو ان کے پیشرو کے دور میں تعینات ہوئے تھے۔ انہی تبدیلیوں کے نتیجے میں 9 مئی کے مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو سزائیں سنائی گئیں۔

 

تاہم نیا تنازع تب پیدا ہوا جب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ پر عملدرآمد معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کے بعد چیف جسٹس عالیہ نیلم کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم بھی شروع ہو گئی ہے، تاہم قانونی برادری کھل کر ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ حکومت نواز سمجھے جانے والے وکلا کے انڈیپنڈنٹ گروپ نے بھی چیف جسٹس کے عبوری حکم کا دفاع کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس جنوری کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے، جس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی مستقلی پر غور کیا جائے گا۔ ان ججوں کی مستقلی انڈیپنڈنٹ گروپ کے فعال ارکان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے لہذا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو خوش کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طاقتور حلقے پی ٹی آئی کے سیاسی تناظر میں پنجاب کی عدلیہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور اس پورے معاملے میں چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کردار اب بھی کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔

 

ادھر پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کی معطلی نے ایک آئینی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ آرڈیننس پنجاب حکومت کی جانب سے قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کو قانونی تحفظ دینے کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم نفاذ کے چند ہی دن بعد لاہور ہائی کورٹ نے اس پر عملدرآمد روک دیا اور اس کے تحت دیے گئے تمام قبضے بھی واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

 

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نہایت سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے چیف سیکریٹری پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے جاتی امرا کے مکینوں کی زمین پر دعوی کر دیا تو ڈپٹی کمشنر اس کے حق میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس نیلم نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب حکومت عدالتی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت ہو تو پنجاب حکومت کا ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ دلا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی رجسٹری اور دیگر دستاویزات مسلسل بن رہی ہیں، لیکن پنجاب حکومت کے نئے قانون میں شہریوں کو اپیل کا حق تک حاصل نہیں، حتیٰ کہ ہائی کورٹ بھی حکمِ امتناعی جاری نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں دماغ سے فیصلے کرتی ہیں جبکہ انتظامی افسران خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

 

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوامی منتخب اسمبلی نے برسوں اور دہائیوں سے ستائے گئے لاکھوں شہریوں کے تحفظ کے لیے بنایا تھا تاکہ انہیں طاقتور لینڈ مافیا سے نجات مل سکے۔ ان کے مطابق اس قانون کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ ہوگا اور عوام اسے قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ زمینوں کے مقدمات دہائیوں تک چلتے رہتے ہیں اور اس قانون کے ذریعے پہلی بار 90 دن میں فیصلے ممکن بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی معطلی سے سب سے زیادہ نقصان غریبوں، بیواؤں، مسکینوں اور مظلوموں کو ہوگا جن کی فوری داد رسی کی جا رہی تھی۔

پراپرٹی مافیا پر مریم نواز کا موقف درست ہے یا جسٹس عالیہ کا؟

قانون کے حق میں حکومت اور حکومتی ارکان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون مکمل آئینی عمل، کابینہ کی منظوری، اسمبلی میں بحث اور گورنر کے دستخط کے بعد نافذ ہوا اور اس کا مقصد عوام کو فوری انصاف فراہم کرنا تھا۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات عظمی بخاری کے مطابق یہ کوئی عجلت میں لایا گیا قانون نہیں بلکہ سنجیدہ مشاورت کے بعد بنایا گیا قانون ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین اور متاثرہ فریقین کا کہنا ہے کہ مسئلہ قانون کے نفاذ کے طریقہ کار میں ہے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز نے اختیارات سے تجاوز کیا، ٹریبیونلز قائم ہی نہیں کیے گئے اور شہریوں کو اپیل کا حق نہیں دیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر 56 درخواستوں میں یہی مؤقف اپنایا گیا، جن پر سماعت کے بعد عدالت نے آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے، فل بینچ بنانے اور تمام جائیدادوں کا سابقہ اسٹیٹس بحال کرنے کے احکامات جاری کیے۔

Back to top button