جسٹس امین کا چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت بننے کا امکان

سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسی ہفتے قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ ابتدائی طور وفاقی آئینی عدالت میں 6 دیگر ججز شامل ہوں گے جن میں سے چار سپریم کورٹ سے ہوں گے اور دو ہائی کورٹس سے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے لیے زیر غور ناموں میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق، اور جسٹس باقر نجفی شامل ہیں اور ان سب کا تعلق سپریم کورٹ سے ہے، جبکہ جسٹس کے کے آغا کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس روزی خان کو بلوچستان ہائی کورٹ سے آئینی عدالت میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ دھیمے مزاج اور لہجے والے جسٹس امین الدین خان ایک معتدل اور ادارہ شناس جج کے طور پر جانتے ہیں۔ وہ اس وقت آئینی بنچ کے سربراہ ہیں اور آئینی نوعیت کے حساس کیسز میں اپنے متوازن رویّے اور سیاسی اور عسکری حدود سمجھنے کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ جسٹس امین کی یہ خوبی ہے کہ وہ فوج اور حکومت دونوں کو ناراض کیے بغیر آئینی فیصلے دینے کا ہنر رکھتے ہیں، جس کے باعث ان پر وفاقی آئینی عدالت کی قیادت کا اعتماد کیا جا رہا ہے۔ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی ابتدائی تعداد ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے مقرر کی جائے گی، بعد میں ججز کی تعداد میں اضافے کے لیے پارلیمنٹ کے ایکٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے حلف صدر مملکت لیں گے جبکہ باقی ججز چیف جسٹس سے اپنا حلف لیں گے۔
وزارت قانون کے حکام نے تصدیق کی کہ صدر مملکت، وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر، باضابطہ پاکستان کی پہلی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کی تقرری کے احکامات جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کی دفعات کے تحت صدر کو نئی تشکیل شدہ عدالت میں اس طرح کی تقرریاں کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہوگا۔
یاد رہے کہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز کو عدالتی اصلاحات پیکیج کے ایک حصے کے طور پر دوبارہ زندہ کیا گیا ہے جو کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل میں شامل ہے۔ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منطقی بنانے اور آئینی سوالات کے فیصلے میں زیادہ مؤثریت لانے کا مقصد رکھتی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، آئینی عدالت کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا، آئینی مقدمات کے بروقت فیصلے یقینی بنانا، اور عدالتی نظام کی آزادی اور ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری حلقوں کے مطابق ایک علیحدہ آئینی عدالت کا تصور نیا نہیں ہے۔ یہ خیال پہلی بار 2006 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین دستخط شدہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس چارٹر میں ایک خصوصی عدالت کے قیام کا تصور شامل تھا جو صرف آئینی امور سے متعلق ہو، تاکہ سپریم کورٹ اپنی اپیلی دائرہ اختیار پر زیادہ توجہ دے سکے۔ یہ خیال 26ویں آئینی ترمیم پر بحث کے دوران دوبارہ سامنے آیا، لیکن اس وقت جمعیت علمائے اسلام (ف) اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کی مزاحمت کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ آف پاکستان کو کمزور کرنا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے اختیارات آئینی عدالت کے چیف جسٹس کو منتقل کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت میں صرف انہی ججز کو تعینات کیا جائے گا جو حکومت کی لائن لے کر چلیں گے جب کہ آزاد ججز کو سپریم کورٹ میں ہی رہنے دیا جائے گا جس کے پاس اب آئینی اور سیاسی نوعیت کے مقدمات سننے کا اختیار نہیں رہا۔ 27 ویں ترمیم کے مطابق آئینی عدالت ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی جو کہ سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ عمر یعنی 65 سال سے تین سال زیادہ ہے۔نئی عدالت کو سپریم کورٹ کی عمارت میں نہیں رکھا جائے گا۔
حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اسے اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں قائم کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بدلے وفاقی شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کی تیسری منزل پر منتقل کیا جائے گا۔ تاہم، شرعی عدالت کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اس کے ججز اپنی اچانک منتقلی پر ناخوش ہیں اور انہوں نے اپنے تحفظات چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھے ہیں۔
سیاسی ججز کی یکیوں نے عدالتی ترامیم پر کیسے مجبور کیا ؟
ادھر نئی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں جاری ہیں، جو ممکنہ طور پر 13 نومبر کو منعقد ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 نومبر کو قومی اسمبلی سے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل ممکنہ طور پر پاس ہو جانے کے بعد صدر کی جانب سے اسکی منظوری دینے کی توقع ہے، جس سے نئی عدالت کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
