جسٹس امین آئینی عدالت کےچیف جسٹس ہوں گے،صدرمملکت نےمنظوری دیدی

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان کی بطور چیف جسٹس آئینی عدالت تقرری کی منظوری دیدی۔

صدرِ مملکت آصف زرداری نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر دی ہے۔

جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔ اس سے قبل وہ آئینی بینچ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی طور وفاقی آئینی عدالت میں 6 دیگر ججز شامل ہوں گے جن میں سے چار سپریم کورٹ سے ہوں گے اور دو ہائی کورٹس سے شامل کئے جائیں گے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے لیے زیر غور ناموں میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق، اور جسٹس باقر نجفی شامل ہیں اور ان سب کا تعلق سپریم کورٹ سے ہے، جبکہ جسٹس کے کے آغا کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس روزی خان کو بلوچستان ہائی کورٹ سے شامل آئینی بینچ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ دھیمے مزاج اور لہجے والے جسٹس امین الدین خان ایک معتدل اور ادارہ شناس جج کے طور پر جانتے ہیں۔ وہ اس وقت آئینی بنچ کے سربراہ ہیں اور آئینی نوعیت کے حساس کیسز میں اپنے متوازن رویّے اور سیاسی اور عسکری حدود سمجھنے کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ جسٹس امین کی یہ خوبی ہے کہ وہ فوج اور حکومت دونوں کو ناراض کیے بغیر آئینی فیصلے دینے کا ہنر رکھتے ہیں، جس کے باعث ان پر وفاقی آئینی عدالت کی قیادت کا اعتماد کیا جا رہا ہے۔ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی ابتدائی تعداد ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے مقرر کی جائے گی، بعد میں ججز کی تعداد میں اضافے کے لیے پارلیمنٹ کے ایکٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے حلف صدر مملکت لیں گے جبکہ باقی ججز چیف جسٹس سے اپنا حلف لیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجواتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، اور یہ آئین پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور ہوگیا اور کمزور طاقت کے سامنے بے بس ہوگیا، اس ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کردیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے صدر مملکت کو بھجوائے گئے استعفے میں احمد فراز کے اشعار بھی شامل کیے۔

سپریم کورٹ کے دوسرے مستعفی ہونے والے جج جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے میں مؤقف اختیار کیاکہ 27ویں ترمیم نے اس آئین کو ختم کردیا ہے جس کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ آئین اب محض ایک سایہ رہ گیا ہے اور وہ خاموشی کے ذریعے اپنے حلف سے غداری نہیں کر سکتے۔

مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب یہ ذمے داری قبول کی تو 26 ویں ترمیم ہو چکی تھی۔ ایسے حالات میں کام کرنا خود کو دھوکا اور فریب دینے کے مترادف ہے۔

 

Back to top button