وکلاء پرادری نے جسٹس عائشہ ملک کی مخالفت کیوں کی؟

ایک جانب لاہور ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی کوشش کو سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی کی بنیاد پر وکلاء تنظیموں کی جانب سے کھلی مخالفت کا سامنا ہے تو دوسری جانب بعض حلقے جسٹس عائشہ کے حق میں آواز بلند کررہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ججوں کی تقرری میں سنیارٹی اصول کی کوئی پابندی نہیں۔ تاہم ان دونوں میں سے کس موقف کی جیت ہوتی ہے یہ فیصلہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہو گا۔
پاکستان بار کونسل اور دیگر وکلاء تنظیموں کی جانب سے جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ میں ترقی کی مخالفت کے بعد خواتین وکلاء کی نمائندہ تنظیم نے جسٹس عائشہ کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ دی ویمن ان لا پاکستان نے کہا ہے کہ ’آئین یا قانون میں سینیئر ترین جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ کم از کم 41 مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی جج کو سینیئر ترین نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا ہو، اس وجہ سے سینیئر ترین جج کی تعیناتی کوئی روایت بھی نہیں ہے، تنظیم کے مطابق سینیارٹی دراصل بار کے کچھ ممبران کا مطالبہ ہے تاہم اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ بیان میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175 اے (3) کا حوالے دیا گیا ہے جس میں صرف چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے سینیارٹی کی بات کی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل (2)177 کے مطابق سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے پاکستان کا شہری اور 5 سال تک ہائی کورٹ کا جج یا 15 سال تک ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ ہونا ضروری ہے۔
خواتین کی تنظیم کا موقف ہے کہ ’آرٹیکل 177 میں سپریم کورٹ میں تعیناتی کی شرائط میں ’سینیئر ترین‘ کے الفاظ نہ ہونے کا مطلب ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ کے جج کا سینیئر ترین ہونا ضروری نہیں ہے۔
خیال رہے کہ یہ موقف تب سامنے آیا ہے جب وکلا برادری کے ایک حصے نے چیف جسٹس گلزار احمد سے جسٹس عائشہ کی ترقی پر غور کرنے کے لیے 6 جنوری کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے رد کر دیا گیا۔ اس سے پہلے ایک نمائندہ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے چیئرمین خوش دل خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد مسعود چشتی اور دیگر نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہ
کیا گیا تو پاکستان بار کونسل اور تمام بار ایسوسی ایشنز ہر سطح پر عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کریں گی۔ جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی اب محض قانونی معاملہ نہیں رہا۔ اب یہ بار ایسوسی ایشنز سے لے کر سماج تک ہر جگہ زیر بحث ہے۔ خیال رہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ ہائی کورٹ سے کسی جج کو سپریم کورٹ میں سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر تعینات کیا جائے گا۔ اس تعیناتی میں کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس عائشہ ملک سنیارٹی کے اعتبار سے اس وقت ہائی کورٹ لاہور میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان سے سینیئر تین جج موجود ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چوتھے نمبر پر بھی جسٹس عائشہ ملک اکیلی نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ 24 جج ایسے ہیں جو بطور جج ہائی کورٹ پانچ سال کا تجربہ رکھتے ہیں اور قابلیت اور سنیارٹی کے لحاظ سے عائشہ ملک کے برابر ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک کا نام پہلے بھی سپریم کورٹ کے لیے تجویز کیا گیا لیکن جوڈیشل کمیشن میں ان کے حق میں فیصلہ نہ ہو سکا۔ اب جب چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ انتہائی قریب آن پہنچی ہے، انہوں نے جسٹس عائشہ ملک کا نام ایک بار پھر تجویز کر دیا اور پاکستان کی وکلا برادری نے اس فیصلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق ان حقائق کی روشنی میں پہلا سوال یہ ہے کہ الجہاد ٹرسٹ میں جو اصول طے پایا تھا کیا وہ اب پہلی بار پامال ہونے جا رہا ہے جو وکلا برادری احتجاج کر رہی ہے؟ کیا یہی اصول جناب افتخار چوہدری کے دور میں بھی پامال نہیں ہو چکا جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف صاحب کو سینیئر ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں لانے کی بجائے لاہور ہائی کورٹ میں ہی رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب افتخار چوہدری کے دور میں یہی اصول پامال ہوا تو وکلا برادری خاموش کیوں رہی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب الجہاد ٹرسٹ میں طے کردہ اصول کو افتخار چوہدری صاحب کے دور میں پامال کیا گیا اور تمام بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز ’جانثار‘ بنی رہیں تو کیا یہ اس بات کا اعلان نہیں تھا کہ عملاً اب الجہاد ٹرسٹ کیس میں طے کردہ اصول ساکت ہو چکا ہے اور اس نکتے پر بینچ اور بار کا اتفاق ہے کہ سنیارٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی کی تعیناتی کی راہ میں حائل ہو سکے؟ دوسری جانب جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کے حق میں جو دلائل اب تک سامنے آئے ہیں ان کے مطالعے سے کچھ اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
عمران نے حکومت بچانی ہے تو فورانئی جماعت بنا لیں
پہلی دلیل یہ ہے کہ محض سنیارٹی کافی نہیں ہوتی۔ اہلیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ اہلیت کا ہے تو جسٹس عائشہ سے سینیئر تین ججوں کی اہلیت کو کیا ہوا؟ کیا ان کے خلاف ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز موجود ہے، جو ان کی اہلیت کو مشکوک کرے یا اس پر سوال اٹھائے؟ نیز یہ کہ پانچ سال تجربہ رکھنے والے باقی کے 24 کے قریب ججز کی اہلیت میں کیا مسئلہ ہے اور عائشہ ملک ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ جسٹس عمر عطا بندیال، جو عنقریب چیف جسٹس بننے والے ہیں، کا یہ موقف اخبارات میں رپورٹ ہو چکا ہے کہ جسٹس عائشہ ملک آزاد منش جج ہیں، اس لیے بار ایسوسی ایشن ان کی مخالفت کر رہی ہے۔
اس اعتراض کا جواب بار ایسوسی ایشن ہی کو دینا چاہیے البتہ اس سے ایک ضمنی سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو تین جج محترمہ عائشہ ملک سے سینیئر ہیں، کیا وہ آزاد منش نہیں ہیں؟ ایک دلیل یہ دی گئی کہ سپریم کورٹ میں عورت جج کے آنے سے تاریخ رقم ہو رہی ہے، اس لیے تاریخ رقم ہونے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ سوال اب یہ ہے کہ محض تاریخ رقم کرنے کے لیے طے شدہ قاعدے کو پامال کیا جا سکتا ہے اور کیا کسی کو محض خاتون ہونے کی بنیاد پر تین سینیئرز پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی خاتون سپریم کورٹ کی جج بنیں تو یہ بلاشبہ ایک خوشی کی بات ہو گی لیکن قانون اور ضابطے کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اب اگر کوئی گنجائش نکالنا مقصود ہے تو اس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ متعلقہ قانون اور ضابطے کو باقاعدہ طور پر پارلیمان یا عدالت کے ذریعے تبدیل کر دیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر قانون کے مطابق ہی چلنا چاہیے کیونکہ قانون کی عملداری سے بھی ایک تاریخ رقم ہو رہی ہوتی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں، پچھلی بار جب یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو اس کے حق میں جو دلائل دیے جا سکتے تھے، دے دیے گئے اور ان دلائل کے رد میں جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہہ دیا گیا۔ اب دوبارہ یہی مسئلہ سامنے ہے تو سوالات کی معنویت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب یہ محض قانونی معاملہ نہیں رہا۔ اب یہ بار ایسوسی ایشنز سے لے کر سماج تک ہر جگہ زیر بحث ہے۔ معاشرہ حیلوں سے نہیں، اپنی اعلیٰ روایات سے سرخرو ہوتا ہے۔
