جعلی ڈگری والے جسٹس جہانگیری عدالتی جنگ ہار گئے

جعلی ڈگری کی بنیاد پر جج بننے والے عمرانڈو جسٹس طارق محمود جہانگیری انجام کو پہنچ گئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس جہانگیری کی پکی چھٹی کروا دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژنل بینچ نے اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری تعیناتی کے وقت درست ڈگری نہیں رکھتے تھے، ان کی تعیناتی غیر قانونی تھی کیونکہ رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے عدالت کو بتایا کہ طارق محمود نے جعلی انرولمنٹ نمبر کے ذریعے ایل ایل بی کا امتحان دیا حالانکہ ایگزامنر کو دھمکیاں دینے پر ان پر 3 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے وزارت قانون کو انھیں بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا اپنے حکمنامے میں مزید کہنا تھا کہ وزارت قانون کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کو فوراً بطور جج ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ عدالت نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف دائر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
خیال رہے کہ 17دسمبر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جعلی ڈگری والے عمرانڈو جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انھیں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا تھا۔ جسٹس جہانگیری نے الزام عائد کیا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے ان پر استعفیٰ کیلئے دباؤ ڈالا اور تسلیم کیا کہ ان پر ڈگری کیس کو جلد سننے کے لیے شدید دباؤ ہے،طارق جہانگیری نے دعویٰ کیا تھا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انہیں تجویز دی تھی کہ وہ عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ مجھے کہا گیا کہ اپنا استعفیٰ ان میرے سپرد کردیں۔‘ تاکہ پریشر کچھ کم ہو سکے۔ جسٹس جہانگیری کے بقول چیف جسٹس نے انہیں بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر پوسٹ ڈیٹڈ استعفیٰ دینے کی تجویز دی اور کہا کہ استعفیٰ چیف جسٹس کے پاس جمع کرا دیا جائے تاکہ ان پر دباؤ کم ہو سکے ۔ جسٹس طارق جہانگیری کا مزید کہنا تھاکہ چیف جسٹس کی جانب سے زیر التوا مقدمے پر گفتگو کے بعد وہ اس کیس کی سماعت کے لیے بینچ میں بیٹھنے کے اہل نہیں رہے ، لہٰذا انہیں فوری طور پر بینچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔ تاہم آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس جہانگیری کے تمام اعتراضات اور درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دے رکھا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے مطابق سال 1989 میں طارق محمود پر اَن فیئر مینز کمیٹی نے 3 سال کی پابندی لگائی، کمیٹی نے نقل کرنے اور ایگزامنر کو دھمکیاں دینے کا الزام ثابت ہونے پر 3 سالہ پابندی لگائی تھی۔ یونیورسٹی کے 1989 کے فیصلے کے تحت طارق محمود 1992 میں دوبارہ امتحان دینے کے لیے اہل تھے، پابندی کے خلاف طالبعلم طارق محمود نے ڈگری حاصل کرنے کے لیے 1990 کا جعلی انرولمنٹ فارم استعمال کیا، جس پر طالبعلم طارق محمود نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج کی جعلی مہر استعمال کی۔ کراچی یونیورسٹی نے جواب میں بتایا کہ طارق محمود کی ڈگری پر انرولمنٹ نمبر 5968/87 امتیاز احمد نامی طالبعلم کو الاٹ ہوا ہے، طارق محمود نے 1990 میں ایل ایل پارٹ 2 کے لیے بھی 7184/87 انرولمنٹ نمبر جعلسازی سے حاصل کیا۔ نام اور انرولمنٹ نمبر بدل کر مارک شیٹس اور ڈگری حاصل کی گئیں۔ پرنسپل اسلامیہ کالج نے بھی تصدیق کی ہے کہ طارق محمود 1984 سے 1991 تک کبھی کالج میں طالب علم ہی نہیں رہے۔
خیال رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کی درخواست اعلیٰ عدلیہ میں متنازعہ درخواستیں دائر کرنے والے قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہے۔ میاں داؤد ایڈوکیٹ کے دعوے کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ایل ایل بی کی ڈگری ہی مشکوک ہے جس کی بنیاد پر وہ پہلے وکیل اور پھر جج بنے تھے۔ کراچی یونیورسٹی نے اسی بنیاد پر جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کر دی تھی بعد ازاں جامعہ کراچی نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سندھ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں بھی قرار دیاتھا کہ جسٹس جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کا فیصلہ یونیورسٹی قوانین اور ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں اور درخواست گزار میاں داؤد کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے عمرانڈو جج جسٹس طارق جہانگیری کو نااہل قرار دے کر انھیں بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس طارق کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور انہیں تحریک انصاف کا حمایتی جج تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں عمران خان کے دور حکومت میں تب کے صدر عارف علوی نے جج مقرر کیا تھا۔ انہیں سوشل میڈیا پر تب مقبولیت ملی جب انہوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد فوجداری مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
