سپریم کورٹ کے جج جسٹس نقوی کی چھٹی یقینی کیوں؟

یکے بعد دیگرے آڈیوز سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی چھٹی یقینی نظر آتی ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل میں اربوں روپے کی خفیہ جائیدادوں بارے ریفرنس دائر ہونے کے بعد اب جسٹس مظاہر نقوی بارے فواد چودھری کی مبینہ "ٹرک”کی آفر کی آڈیو لیک ہونے کے بعدمسلم لیگ (ن) کے لائرز فورم نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرلیاہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لائرز فورم نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کرادی۔ وکلا کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آڈیو لیک کی بنیاد پر شکایت دائر کی گئی ہے۔وکلا نے درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ جسٹس مظاہر نقوی کی مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ3 مارچ کو فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چوہدری کے درمیان مبینہ آڈیو کال منظر عام پر آئی تھی۔38 سیکنڈز کی آڈیو میں مبینہ طور پر فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چودھری ‘لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس امیر بھٹی اور چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کے درمیان ‘ملاقات’ کروانے کی بات کرتے سنے جا سکتے ہیں۔فواد چوہدری کو فیصل چوہدری سے کہتے سنا گیا کہ ’اچھا میں نے کہا کہ وہ جو اپنا چیف جسٹس لاہور ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ میری بندیال سے کوئی جنرل کراؤ‘۔مبینہ طور پر فواد چوہدری نےمزید کہا کہ ’ٹھیک ہے نا دوسرے اپنے مظاہر کو ڈار صاحب کے ذریعے جو ہے نا، ان کے ساتھ، ان سے ذرا مل لیں‘۔پی ٹی آئی رہنما نے  بھائی فیصل کو ہدایت کی کہ وہ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے ملیں اور انہیں پیغام دیں کہ ’’پورا ٹرک آپ کے ساتھ کھڑا ہے، لہٰذا ہمیں بتائیں کہ اب کیا کرنا ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے لیگی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئےمزید کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ تارڑ کے خلاف تین سے چار استغاثے کروا کر اسے دفعہ 128 کے تحت سزا دلوا دیں تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور ان پر پریشر آئے۔ فواد چودھری نے چونکہ آخری نام استعمال کیا ہےاس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ عطا اللہ تارڑ کے بارے میں بات کر رہے تھے یا اعظم نذیر تارڑ کے بارے میں۔جواب میں فیصل چودھری نے فواد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اگلی صبح ان کی ہدایات پر عمل کریں گے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

بعد ازاں نہ صرف لیگی رہنما عطا تارڑ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے آڈیو کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ مریم نواز نے بھی جسٹس مظاہر نقوی کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اور ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ہارن دے کر پاس کر۔۔۔ٹرک دے کر انصاف کر۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ آڈیو لیک ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف جائیدادوں سے متعلق ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے انفرادی طور پر جمع کروایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج پر مس کنڈکٹ اور ناجائز اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، ناجائز اثاثے بنائے، فرنٹ مینوں کے ذریعے ناجائز دولت اکٹھی کی۔ریفرنس میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں میں حالیہ دنوں میں 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ناجائز اثاثے،آڈیو لیک جیسے معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔دائر کیے گئے ریفرنس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں اور اثاثوں کی تحقیقات کرے۔

خیال رہے کہ اس سے آڈیو لیکس کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی زیر قیادت تمام بار کونسلز نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نےگزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہم نے آڈیو لیکس واقعےپر پریس ریلیز جاری کی تھی، چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا اگر آڈیو جھوٹی ہے تو پس پردہ کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن اگر آڈیو لیکس سچ ہیں تو ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے مگر نہ سپریم کورٹ نے کوئی جواب دیا نہ ہی رجسٹرار آفس نے کوئی رائے دی۔

واضح رہے کہ 16 فروری کو چوہدری پرویز الٰہی کی مبینہ ٹیلی فون کال لیک ہوئی اور اس میں غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق سپریم کورٹ جج کے ساتھ ان کی مبینہ بات چیت منظرعام پر آئی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی کی تین آڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ تین حصوں پر مشتمل آڈیولیکس کے پہلے حصے میں مبینہ طور پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو محمد خان کا کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوانے کی ہدایت دیتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ آڈیو میں سابق وزیراعلیٰ ہدایت کر رہے تھے کہ کوشش کرکے کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں ہی لگوایا جائے۔کیونکہ وہ دبنگ ہیں۔

دوسری آڈیو میں پرویز الٰہی صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کو یہی ہدایت دے رہے تھے کہ محمد خان کا کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوایا جائے۔ عابد زبیری نے پوچھا کہ کیا کیس کی فائل تیار ہے تو پرویز الٰہی نے کہاکہ وہ جوجا صاحب سے پوچھیں۔ پرویز الٰہی نے عابد زبیری سے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو بتانی نہیں ہے۔ جس پر عابد زبیری نے کہا کہ میں سمجھ گیا۔ عابد زبیری نے پرویزالٰہی کو یاد دلایا کہ مظاہر علی نقوی کی عدالت میں سی سی پی او غلام محمد ڈوگر کا کیس بھی لگا ہوا ہے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ میں بات کرتا ہوں۔جبکہ تیسری آڈیو میں پرویز الٰہی اورجج مظاہرعلی نقوی کی مبینہ گفتگو تھی۔ پرویز الٰہی نےان سے پوچھا کہ کیا محمد خان آپ کے پاس ہے جس پر مظاہر علی نقوی نےکہا کہ جی میرے پاس ہے۔ پرویز الٰہی نے کہاکہ میں آرہا ہوں بغیر کسی پروٹوکول کے۔ مظاہر نقوی نے کہا کہ آنے کی ضرورت نہیں لیکن پرویز الٰہی نے کہا کہ میں قریب پہنچ چکا ہوں، بس سلام کر کے چلا جاؤں گا۔

صوبوں کے ٹیکس جمع نہ کرنے پر معیشت زبوں حالی کا شکار ہے

Back to top button