کامران ٹیسوری کا دکھ: اپنی فراغت کی خبر ٹی وی سے ملی

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کو اپنی برطرفی کا علم تب ہوا جب ان کے فراغت کی خبر ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہوئے۔ اس حوالے سے انہیں فیصلہ سازوں کی جانب سے کسی قسم کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی حالانکہ وہ بھائی لوگوں سے گہرے تعلقات کا دعوی کیا کرتے تھے۔ کلاسرا کے مطابق کامران ٹیسوری نے اپنا یہ دکھ سابق گورنر محمد زبیر کے ساتھ شیئر کیا۔ انکے مطابق ایک صوبے کے گورنر کو اس طرح اچانک ہٹایا جانا اور پیشگی اطلاع نہ دینا سیاسی روایات اور انتظامی تقاضوں کے برعکس ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں کلاسرا بتاتے ہیں کہ کامران ٹیسوری کی تقرری کے وقت یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ فوجی حلقوں کے قریب ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں خصوصاً ایم کیو ایم خود کو اس فیصلے سے الگ ظاہر کرتی رہیں۔ بطور گورنر سندھ وہ خود بھی نجی محفلوں میں ڈی جی سی کے ساتھ اپنا تعلق بیان کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ لیکن ٹیسوری نے جلد ہی خود کو ایک ایسا شخص ثابت کر دیا جو سستی شہرت کا بھوکا تھا اور غیر سنجیدہ رویے کا حامل تھا۔ حالات یہ تھے کہ موصوف خود ٹی وی چینلز کے اینکرز کو فون کر کے ان کے پروگراموں میں شرکت کی فرمائش کیا کرتے تھے۔
اپنی گورنری کے دوران کامران ٹیسوری اکثر بونگیاں بھی مارا کرتے تھے۔ ایک موقع پر ان کا موٹر سائیکل ریلی کی قیادت کرتے ہوئے بھارت جانے کا بیان خاص طور پر زیر بحث آیا۔ کلاسرا کے مطابق اس طرح کے افراد کو اہم عہدوں پر بٹھانا دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت قابل اور سنجیدہ افراد کی بجائے ایسے لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو مکمل طور پر تابع فرمان اور وفادار رہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں اکثر قابل اور ذہین افراد کو اس لیے آگے نہیں لایا جاتا کیونکہ وہ یس باس کلچر کا حصہ نہیں بنتے اور سوال اٹھاتے ہیں۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ کامران ٹیسوری کے بعد نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تقرری نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سینیئر صحافی کے مطابق نہال ہاشمی بھی چھوٹی موٹی بونگیاں نہیں مارتے۔ ماضی میں نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ان سے ناراض رہ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا ہر وائرل ایک ویڈیو میں نہال ہاشمی کو نواز شریف سے مصافحہ کی کوشش کرتے دیکھا گیا لیکن سابق وزیر اعظم کی جانب سے انہیں نظر انداز کیا گیا، اسی طرح شہباز شریف بھی نہال کے عدلیہ اور فوج مخالف بیانات کی وجہ سے ان سے ناخوش تھے۔ اس کے باوجود ان کی تقرری ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی فیصلے اکثر بدلتے حالات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
رؤف کلاسرا سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر مستقبل میں نہال ہاشمی کو گورنر شپ سے ہٹایا گیا تو کیا ان کے ساتھ بھی وہی طرز عمل اپنایا جائے گا جو ٹیسوری کے ساتھ اپنانا گیا۔ کلاسرا کہتے ہیں کہ یہ رویہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نیا نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ضیاء الحق کو سینئر جرنیلوں پر ترجیح دے کر آرمی چیف بنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی پیشہ ورانہ برتری نہیں بلکہ ان کی تابع داری سمجھی جاتی تھی۔ اسی طرح ضیاء الحق کے دور میں بے نظیر بھٹو کو کاؤنٹر کرنے کے لیے نواز شریف کو آگے لایا گیا، جن کے بارے میں مختلف سیاسی یادداشتوں میں لکھا گیا کہ ان کی شخصیت میں فرمانبرداری کا عنصر نمایاں تھا۔
مزید مثال دیتے ہوئے کلاسرا کہتے ہیں کہ جب نواز شریف کو نئے آرمی چیف کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا تو انہوں نے بھی اسی سوچ کو اپنایا۔ چوہدری نثار علی خان نے انہیں پرویز مشرف سے یہ کہہ کر ملوایا کہ وہ ایک سادہ اور کنٹرول میں رہنے والے افسر ہیں، جبکہ سینئر جنرل علی قلی خان کو ان کے اثر و رسوخ اور مضبوط پس منظر کے باعث نظرانداز کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں یہی پرویز مشرف نواز شریف کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنے اور 12 اکتوبر 1999 کون کی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے اٹک جیل پہنچا دیا۔
کلاسرا کے مطابق پرویز مشرف کی برطرفی کا طریقہ کار بھی متنازع رہا، جب انہیں دوران پرواز ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے سے یہ سبق ملنا چاہیے تھا کہ ایسے فیصلوں کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بعد میں نواز شریف نے 2014 میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کو برطرف نہیں کیا، حالانکہ ان پر دھرنے میں کردار کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا۔ سینیئر صحافی ظفراللہ جمالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے بطور وزیراعظم گریڈ 22 کے سرکاری افسر جنرل پرویز مشرف کو باس کہہ کر مخاطب کرنے کی گندی روایت ڈالی۔ کلاسرا کے مطابق یہ طرز عمل دراصل اس سیاسی کلچر کی عکاسی کرتا ہے جہاں اصل طاقت اور اختیار کے مراکز سب کو معلوم ہوتے ہیں، چاہے انہیں کھلے عام تسلیم کیا جائے یا نہیں۔
ایم کیو ایم کی سیاست نائن زیرو سے زیرو تک کیسے پہنچی؟
اسی تسلسل میں وہ عمران خان کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سے امید تھی کہ وہ میرٹ کو فروغ دیں گے، مگر انہوں نے بھی عملی سیاست میں وہی راستہ اختیار کیا۔ عثمان بزدار اور محمود خان کی تقرریاں اسی سوچ کا نتیجہ قرار دی گئیں کہ ایسے افراد منتخب کیے جائیں جو قیادت کے لیے چیلنج نہ بنیں۔ رؤف کلاسرا کے مطابق کامران ٹیسوری کی خاموش برطرفی، نہال ہاشمی کی غیر متوقع تقرری اور ماضی کی تمام مثالیں ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا نظام ابھی تک مکمل طور پر میرٹ اور ادارہ جاتی اصولوں کے تابع نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول جب تک قابلیت کے بجائے وفاداری کو ترجیح دی جاتی رہے گی، ایسے واقعات نہ صرف دہرائے جاتے رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دیتے رہیں گے۔
