کراچی کے کرائمز کنگ: سفید کرولا گینگ اور رکشہ گینگ

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی طرح سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تاہم لاہور کی نسبت کراچی میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز نے پورے شہر کو خوف میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف پچھلے چار ہفتوں میں کراچی میں 40 سے زائد سٹریٹ کرائمز کے واقعات ہوئے جن میں درجن بھر لوگوں کو زخمی اور 5 کو قتل کر دیا گیا۔ تاہم بیشتر وارداتوں میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں ہو پائے۔ کراچی پولیس تسلیم کرتی ہے کہ شہر میں حالیہ دنوں میں ہونے والی زیادہ تر وارداتوں میں 2 گینگز ملوث ہیں جن کے نام سفید کرولا گینگ اور رکشہ گینگ ہیں۔ لیکن کراچی کے کرائمز کنگ کہلانے والے یہ دونوں گینگز ابھی تک پولیس کے قابو نہیں آ سکے۔

یاد رہے کہ کچھ برس پہلے تک کراچی کے مختلف علاقے مختلف نوعیت کے جرائم کے لیے مخصوص تھے، شہر میں لیاری گینگ اور طالبان سمیت مختلف انتہا پسند گروہوں کی جانب سے وارداتیں کی جاتی تھیں، ہر علاقے کا اپنا ایک گینگ تھا جس کا وہاں سکہ چلتا تھا اور پولیس بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ پھر سندھ حکومت نے صورت حال پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن شروع کیا۔ اس کارروائی کے بعد امن عامہ کی صورت حال کچھ عرصہ کافی ٹھیک رہی لیکن اب ایک بار پھر جرائم پیشہ افراد شہر میں بہت ذیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔

کراچی پولیس کے سابق ڈپٹی چیف سی پی ایل سی مراد سونی نے بتایا کہ جرائم کی وارداتوں میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ان میں تشدد کا عنصر بھی بڑھ گیا ہے، پہلے چوری ڈکیتی، لوٹ مار اور چھینا جھپٹی کرنے والے گولی مارنے اور جان لینے سے گریز کرتے تھے لیکن اب واردات کے لیے آنے والے جرائم پیشہ افراد کسی کی بھی جان لے لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ آج کل سٹریٹ کرائم میں سفید کرولا گینگ اور رکشہ گینگ کے نام بار بار آ رہے ہیں، اسی نوعیت کے گروہوں کی جانب سے کی گئی وارداتوں کے اعداد و شمار نے کراچی پولیس اور دیگر حکام کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، پولیس اور ریسکیو سمیت دیگر ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق 2019 میں کراچی کے 44 شہری ڈکیتی میں مزاحمت پر مارے گئے جبکہ 282 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس طرح 2020 میں 51 افراد کو ڈکیتی کی وارداتوں میں قتل کر دیا گیا اور 332 افراد زخمی کیے گئے جبکہ 2021 کے صرف پہلے 10 ہفتوں میں ہی ڈکیتوں نے 72 افراد کی جان لے لی ہے اور 445 افراد کو زخمی کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل چھیننے کے بھی ہزاروں واقعات پیش آ چکے ہین۔

ایک اندازے کے مطابق اگر چھینے جانے والے ایک فون کی مالیت 25 ہزار رکھی جائے تو گذشتہ برس کراچی کے شہریوں سے صرف موبائل فون کی مد میں 63 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل ڈکیت چھین چکے ہیں، پولیس ریکارڈ کے مطابق شہر قائد کے تین اضلاع میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔ ترجمان پولیس ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا کہ کراچی کے ضلع کورنگی، شرقی اور ضلع وسطی میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا یے، شہر میں 75 سو افراد ایسے موجود ہیں جو جرائم میں ملوث ہیں۔ ان کی بڑی تعداد کراچی سے باہر کے لوگوں کی ہے جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی گروہ نمایاں ہیں، وارداتوں میں ملوث کئی ایسے جرائم پیشہ افراد بھی گرفتار ہوئے ہیں جو اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے رہنے والے ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے شہر میں ہونے والے جرائم کا سارا الزام محض غیر مقامی افراد پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے اور دنیا بھر میں میٹرو پولیٹن شہروں میں غیر مقامی افراد بڑی تعداد میں ہوتے ہیں، اس کی ایک بڑی مثال دبئی سب کے سامنے ہے جہاں غیر مقامی افراد بڑی تعداد میں ہیں لیکن جرائم کے واقعات اس طرح رونما نہیں ہوتے جیسا کہ کراچی میں ہوتے ہیں۔

اگرچہ بدلتے وقت کے ساتھ جرائم پیشہ افراد زیادہ بے رحم ہو رہے ہیں اور جدید طریقے اپنانے کے ساتھ وارداتوں کے دوران لوگوں کو قتل کرنے سے بھی ذرا نہیں چوکتے، لیکن پولیس ان سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر موثر اقدامات کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے، ان کوششوں میں سے ایک جرائم پیشہ افراد کی ای ٹیگنگ بھی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب کے مطابق کراچی میں جرائم کے خاتمے کے لیے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے عادی مجرموں کی ای ٹیگنگ کی تجویز کی باضابطہ طور منظوری دے دی ہے، اس نظام کے تحت کسی بھی مجرم کے جرم دہرانے پر اس کے جسم کے ساتھ کم سے کم دو سال تک ایک الیکٹرانک ڈیوائس نصب کی جائے گی جو اس کی براہ راست نگرانی کرے گی۔ ملزم کو ضمانت صرف ایسا حلف نامہ جمع کرانے پر دی جائے گی، جس میں وہ ایک خاص علاقے میں رہنے کی یقین دہانی کرائے گا، اس دوران جی پی ایس کے ذریعے اس کے ساتھ لگے ڈیوائس کی لائیو مانیٹرنگ کی جاتی رہے گی اور ملزم کو مخصوص علاقے تک ہی نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔

Karachi Crimes King White Corolla Gang and Rickshaw Gang

Back to top button