گل پلازہ آتشزدگی: وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس، کمشنر کراچی کو فوری انکوائری کا حکم

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو فوری انکوائری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگنے کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد افراد تاحال عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آتشزدگی کے باعث عمارت کے تین حصے منہدم ہو چکے ہیں۔ سندھ رینجرز، پاک بحریہ اور دیگر تمام متعلقہ ادارے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں، جبکہ وزیراعظم نے تمام اداروں کو باہمی تعاون سے کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ مرنے والوں میں 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ آگ کے نتیجے میں زخمی اور بے ہوش ہونے والے افراد کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو آگ لگنے کی وجوہات معلوم کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ عمارت میں فائر سیفٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں فوری فائر آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگنے کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہ پایا جا سکا، جبکہ آگ کی شدت کے باعث عمارت کے کچھ حصے منہدم ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑکی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ آتشزدگی کے باعث 20 افراد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

چیف فائر آفیسر کراچی ہمایوں خان کا کہنا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ ہے، ریسکیو آپریشن کے دوران فائر فائٹر فرقان علی شہید ہو چکے ہیں۔ کولنگ کے عمل میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں اور آخری چنگاڑی تک آگ بجھانے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا تاہم عمارت کا ایک حصہ گرنے سے دھماکہ ہوا اور آگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مزید دکانیں اس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔ 20 سے زائد فائر ٹینڈرز کی مدد سے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ اسنارکل کے ذریعے لوگوں کو پلازے سے نکالا جا رہا ہے۔

فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی، جس کے بعد نیپا اور صفورا ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق پلازہ کے میزنائن فلور پر آگ لگی، جبکہ شاپنگ پلازہ گراؤنڈ، میزنائن اور دو فلورز پر مشتمل ہے۔ عمارت میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام نے بتایا کہ گل پلازہ میں تقریباً 3 ہزار چھوٹی بڑی دکانیں ہیں جن میں سوٹ کیس، کراکری، ڈیکوریشن اور الیکٹرانکس کا سامان موجود تھا، آگ سے متعدد دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث عمارت کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے، جبکہ اندر موجود افراد کی درست تعداد بتانا ممکن نہیں۔

سندھ رینجرز کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ترجمان رینجرز کے مطابق امدادی آپریشن مکمل ہونے تک افسران اور جوان موقع پر موجود رہیں گے، پھنسے افراد کو نکالنے اور قیمتی سامان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ ٹریفک کی روانی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے بھی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرین کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور متاثرہ تاجروں کو امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو تمام وسائل بروئے کار لانے، واقعے کی تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو آگ پھیلنے سے روکنے، وجوہات معلوم کرنے اور شہریوں کے انخلاء کیلئے متبادل راستے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکمے الرٹ ہیں اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ وفاقی و صوبائی ادارے، پاک بحریہ، کے ایم سی اور فائر بریگیڈ آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق آگ پر تقریباً 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ پلازے میں موجود کیمیکل، کپڑا اور پلاسٹک اشیا کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس سانحے پر سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔

Back to top button