داسو حملہ RAW اور NDS نے کیا یا ETIM اور TTP نے؟

14 جولائی کو کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئرز کی بس پر ہونے والے خود کش کار حملے کے ملزمان بارے حکومت پاکستان کا کنفیوژڈ موقف اس پیچیدہ کیس کو مزید الجھا رہا ہے کیونکہ پہلے پاکستانی اور چینی تحقیقات کاروں نے اس حملے کو ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان کی مشترکہ کارروائی قرار دیا تھا لیکن اب اس واقعے کی ذمہ داری افغان انٹیلی ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را پر ڈال دی گئی یے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے انجینئرز کی ہلاکت کے بعد پاکستان بھیجی جانے والی چینی تحقیقاتی ٹیم نے بھی اس واقعے کا ذمہ دار ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ اس نے افغانستان سے پاکستان واپس لوٹنے والے تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کی مدد سے یہ کارروائی کی۔ بعدازاں چینی حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ ای ٹی آئی ایم کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں۔
تاہم 12 جولائی کے روز پاکستان نے داسو میں چین کے انجینئرز پر ہونے والے حملے کو خود کش حملہ قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث نیٹ ورک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس واقعے میں افغان سر زمین استعمال کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ملوث افراد کو افغانستان کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلسسز ونگ (را) سے ہدایات مل رہی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف بھاشا ڈیم تھا لیکن موقع نہ ملنے پر داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلام آباد میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسدادِ دہشت گردی پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل جاوید اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ داسو بس حملے کی جگہ سے جو موبائل اور مواد ملا اس کے ذریعے کیس حل کیا گیا۔ جو گاڑی خود کش حملے میں استعمال ہوئی اس کو ٹریک کیا گیا۔ یہ دیکھا گیا کہ یہ گاڑی کہاں سے اور کیسے آئی؟انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ گاڑی افغانستان سے پاکستان اسمگل کی گئی۔ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اس کارروائی سے پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس حملے میں را اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ نظر آ رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس کے ڈی آئی جی جاوید اقبال بھی اس نیوز کانفرنس میں وزیر خارجہ کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو گاڑی کے پارٹس اور دیگر اشیا کرائم سین سے ملیں جن سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ لیکن کار سوار خود کش حملہ آور کا کوئی ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں تھا۔ علاقے کی جیو فینسنگ کی گئی اور راستوں پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا گیا جس سے گاڑی کی شناخت ہو گئی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ گاڑی چمن میں ایک شو روم سے نومبر 2020 میں لی گئی تھی اور حسین نامی شخص نے یہ گاڑی خریدی تھی۔ حسین کے دو بیٹوں سے معلومات ملیں کہ گاڑی کو خریدنے کے بعد کئی ماہ تک ایک غار میں رکھا گیا۔ ان معلومات کی روشنی میں کراچی سے ایک شخص ایاز کو گرفتار کیا گیا جس نے واقعے سے ایک ہفتہ قبل یہ گاڑی حملہ آور ٹیم کے حوالے کی تھی۔ افغانستان سے آنے والا طارق نامی شخص یہ گاڑی لے کر گیا تھا جس نے حملہ آور کو موقع پر پہنچایا۔ تفتیش کے مطابق خود کش حملہ آور کا نام خالد عرف شیخ تھا۔ البتہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ شخص رجسٹرڈ پاکستانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہینڈلرز کو براہِ راست افغانستان سے این ڈی ایس اور را کے افسران ہینڈل کر رہے تھے۔ چھ سات ماہ قبل یہ منصوبہ بنا اور اس کے بعد اس پر عمل درآمد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس منصوبہ پر عمل کرنے والے تمام ہینڈلرز اور دہشت گردوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے اور اب افغانستان سے درخواست کر رہے ہیں کہ باہمی معاونت کے تحت وہاں موجود مجرمان کی گرفتاری میں پاکستان کی مدد کی جائے۔ ڈی آئی جی جاوید اقبال نے کہا کہ فارنزک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں 100 سے 120 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر نے جب اپنی بیٹی سے متعلق واقعہ رپورٹ کیا تو اسلام آباد نے افغانستان کی ٹیم کو پاکستان آنے کی اجازت دی۔ تمام تفتیش مکمل کی اور تمام معلومات ان کے ساتھ شئیر کیں۔ امید ہے کہ افغانستان بھی ایسا ہی کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 14 جولائی کو اپر کوہستان میں داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں نو چینی باشندوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدا میں پاکستان کی طرف سے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا تھا البتہ بعد میں چین نے اپنی ٹیم بھیجنے کا اعلان کیا اور تحقیقات شروع کیں تو پاکستان نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کی گرفتاری اور افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کا الزام لگایا۔
اس حملے کے بعد چینی حکومت نے سخت رد عمل دیتے ہوئے داسو پروجیکٹ پر کام بند کر دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پہلے اس حملے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے۔ اسی دوران وزیر اعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کے بعد چینی وزیراعظم نے ایک 15 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم پاکستان روانہ کی تھی جس نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ بس کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ داسو حملہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں آزادی کی تحریک چلانے والی عسکریت پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ نے تحریک طالبان پاکستان کی شراکت سے کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے چینی عسکریت پسند شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پناہ لیے ہوئے تھے اور بارڈر پار جا کر چین میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے۔ تاہم پاک فوج کے آپریشن کلین اپ کے بعد بہت سارے چینی عسکریت پسند مارے گئے اور درجنوں کو گرفتار کرکے چین کے حوالے کردیا گیا۔ لیکن جو چینی عسکریت پسند باقی بچے وہ پاکستان چھوڑ کر افغانستان فرار ہو گے۔ اب افغانستان میں افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے بعد پاکستانی طالبان کی بھی ملک واپسی شروع ہوچکی ہے اور چینی عسکریت پسند بھی انہیں کے ساتھ واپس آنا شروع ہو چکے ہیں۔ چینی مسلمان عسکریت پسندوں اور پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کی یہ قربت داسو بم حملے میں بھی نظر آئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے بارڈر سے منسلک مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اوغر مسلمانوں کی اکثریت ہے جو کہ ناراض ہیں اور ایسٹ ترکستان مومنٹ ان کی نمائندگی کا دعوی کرتی ہے۔ افغان جہاد کے دوران یہ لوگ افغانستان آگئے تھے اور طالبان نے بھی انہیں پناہ دی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ لوگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے جہاں ان کا الحاق القاعدہ اور اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سے ہوا۔ ان کے کچھ لوگ بھی فوجی کارروائیوں میں مارے گئے۔
چینی مسلمان عسکریت پسند کہتے ہیں کہ پہلے یہاں پر ایسٹ ترکستان کے نام سے ایک اسلامی ملک قائم تھا جس پر چین نے قبضہ کر لیا تھا۔ انکا کہنا یے کہ چین نے انہیں برابری کے حقوق نہیں دیے اور ان کے ساتھ کافی زیادتی ہو رہی ہے۔ چنانچہ انھوں نے مسلح جدوجہد شروع کر دی جس کا دائرہ کار اب انھوں نے چین سے بیجنگ تک بڑھا دیا ہے۔